اپنا گھر۔ با وقار زندگی، مستحکم اور خوشحال پاکستان

تحریر: علی اوسط

رہائش کے لیے کم لاگت گھروں کی فراہمی سماجی فلاح و بہبود، معاشی استحکام، سماجی ہم آہنگی اور قومی ترقی کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ تاریخی طور پر دیکھا جائے تو وہ حکومتیں جنہوں نے کم آمدنی والے افراد کو گھر کا مالک بنایا، انہیں اس حقیقت کا ادراک تھا کہ لوگوں کو اپنا گھر دینا اُن کے مستقبل اور قومی مستقبل میں بڑی سرمایہ کاری ہے۔ پاکستان جیسا ملک جہاں رہائش کی قلت ہے، شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور باضابطہ مالیاتی سہولتوں تک رسائی محدود ہے، رہائش اور معاشی ترقی کے درمیان تعلق کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ ہمارا بینکاری نظام خصوصاً وہ ادارے جو شریعہ کمپلائنٹ مالیاتی حل فراہم کر رہے ہیں، اس قومی خواہش کو عملی شکل دے سکتے ہیں۔


اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ترقی یافتہ معیشتوں میں اوسطاً 71 فیصد گھرانے یا تو اپنے گھر کے مکمل مالک ہیں یا رہن (مارگیج) کے ذریعے گھر کے مالک بن چکے ہیں، جبکہ 24 فیصد آبادی کرائے کے گھروں میں رہتی ہے۔ مثال کے طور پر وسطی اور مشرقی یورپ کے ممالک میں گھروں کی ملکیت کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہے، جس کی بڑی وجہ سوشلسٹ دور کے بعد کی گئی نجکاری ہے، جو ایک دور اندیش پالیسی کا نتیجہ تھی۔ تاہم اپنا گھر اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ 2010 کے بعد سے کئی ممالک میں گھر کی قیمت اور آمدنی کے تناسب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ او ای سی ڈی میں یہ اوسط انڈیکس 2024 میں 116.2 تک پہنچ گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ 2015 کے بعد سے گھروں کی قیمتیں آمدن میں اضافے کے مقابلے میں 16 فیصد سے زائد بڑھ چکی ہیں۔ اس حوالے سے سنگاپور کی مثال نمایاں ہے۔ ملک کے قیام کے ابتدائی دور ہی میں سنگاپور میں کم لاگت رہائش کی پالیسی نافذ کردی گئی تھی۔ آج وہاں 90 فیصد سے زائد شہری سرکاری معاونت یا سبسڈی یافتہ فلیٹس میں رہائش پذیر ہیں، اور گھر کی ملکیت کی شرح تقریباً 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ سنگاپور کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ ایک جامع اور شمولیتی پالیسی کے تحت نہ صرف گھر کی ملکیت دی جاسکتی ہے بلکہ ایسے بااختیار شہری بھی بناتی ہے جو اپنی کمیونٹی اور معیشت دونوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔






رہائش معیشت اور معاشرے کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟۔۔۔ گھر کی ملکیت کرایہ دار کو مالک میں بدل دیتی ہے، جس سے وہ سرمایہ کاری کے جذبات کے ساتھ اپنے گھر کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ جہاں پہلے یہ صرف ”میرا خرچ“ تھا، اب یہ ”میری سرمایہ کاری“ بن جاتا ہے۔ گھر کی ملکیت والے افراد زیادہ تر اپنی جائیداد کی دیکھ بھال کرتے ہیں، محلے کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس سے صارفین کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور ملازمت کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، جس سے مستحکم خاندانی نظام تشکیل پاتا ہے۔ رہائش کی تعمیر سے کئی صنعتوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہے۔ سیمنٹ سے لے کر پلمبنگ، آرکیٹیکچر اور شہری خدمات تک، یہ اندرون ملک طلب کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے علاوہ جب حکومتیں اور مالیاتی شعبہ مل کر گھر کی خریداری کو قابلِ استطاعت بناتے ہیں، تو پورے ملک کی معیشت اس مستحکم اور جامع ترقی سے مستفید ہوتی ہے۔


پاکستان میں بڑے پیمانے میں رہائش کی کمی ہے، خاص طور پر کم اور متوسط آمدن والے گھرانے، جن کے لیے روایتی رہن (مارگیج) کی شرائط کو پورا کرنا آسان نہیں، یا وہ قرض لینے کے اہل نہیں ہوتے۔ سرمایہ کاری اور ملکی معیشت کو فروغ دینے کے لیے مقصد کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ”میرا گھر، میرا آشیانہ“ کا آغاز کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت مالی معاونت فراہم کی گئی ہے اور بینکوں کو رسک شیئرنگ میں حصہ دار بھی بنایا گیا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کے لیے گھر کی ملکیت ممکن بنائی جاسکے۔


کم لاگت گھروں کی فراہمی میں مقامی بینک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ان میں ڈیمنشنگ مشارکہ متعارف کروانے والے فیصل بینک کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس ماڈل کے تحت بینک اور صارف جائیداد کے مشترکہ مالک ہوتے ہیں جب تک کہ صارف مکمل طور پر اس کی ملکیت حاصل نہ کر لے۔ اس کے ساتھ ہی ایف بی ایل نے اخوت کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ کم آمدنی والے افراد کی شناخت کی جاسکے اور انہیں مالی معاونت فراہم کی جاسکے۔ فیصل بینک اس اقدام کے تحت رہائش اور تعمیراتی مالیاتی مقاصد کو فروغ دے رہا ہے۔ پاکستانی بینک، خاص طور پر وہ بینک جو شریعہ کمپلائنٹ مالیاتی حل فراہم کر رہے ہیں نہ صرف اپنے سماجی مقاصد پورا کررہے ہیں بلکہ اپنی مارکیٹ کو کم خدمات والے طبقے تک وسعت دے رہے ہیں۔


اسلامی بینکاری کے فوائد پاکستانی مارکیٹ میں نمایاں ہے۔ اسلامی مالیاتی نظام ایسا انفرا اسٹرکچر فراہم کرتا ہے جو روایتی سود (رِبا) سے پاک ہوتا ہے، جو ایک ایسے ملک کے لیے اہمیت کا حامل ہے جہاں شریعہ کمپلائنٹ مصنوعات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ڈیمنشنگ مشارکہ ماڈل اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ اس میں بینک اور صارف مشترکہ مالک ہوتے ہیں۔ صارف کرایہ کے ساتھ ساتھ اپنی ملکیت میں بتدریج اضافہ کرتا ہے اور بالآخر مکمل مالک بن جاتا ہے۔ چونکہ یہ ڈھانچہ خالص قرض کے بجائے مشترکہ ملکیت پر مبنی ہوتا ہے، اس لیے بہت سی رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں جو کم آمدن والے افراد کو درپیش ہوتی ہیں۔ مدت ادائیگی کو بڑھایا جا سکتا ہے، ڈاؤن پیمنٹ کم کی جاسکتی ہے اور ضمانت و کریڈٹ ہسٹری کو حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ ”رہائش سب کے لیے“ کے قومی ایجنڈے کے تحت یہ ایک اسٹریٹجک اور موثر ذریعہ ہے۔


عالمی سطح پر دیکھا جائے تو جن ممالک نے رہائش کو اپنی معاشی ترقی کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بنایا، انہوں نے زیادہ پائیدار اور مثبت نتائج حاصل کیے۔ خواہ مثال سنگاپور کے ریاستی سرپرستی میں قائم ہاؤسنگ اور فنانسنگ نظام کی ہو، یا مشرقی یورپ کے اُن ممالک کی جہاں سرکاری رہائش کو نجی ملکیت میں منتقل کرکے گھر کی ملکیت کو فروغ دیا گیا، گھر کا مالک ہونے اور وسیع تر معاشی بااختیاری کے درمیان تعلق ناقابل تردید ہے۔ مسئلہ زیادہ گھر تعمیر کرنا نہیں، بلکہ ایسے کم لاگت اور قابلِ استطاعت گھر فراہم کرنا ہے جو طویل المدتی ادائیگی کی سہولت، مناسب قیمت، معاون حفاظتی نظام اور ادارہ جاتی حمایت کے ساتھ ایسی مالی سہولتوں سے جڑے ہوں جن تک عام گھرانے آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔ 


ان عالمی مشاہدات کو مقامی تناظر میں ڈھالنے کے لیے بینکوں کو ریگولیٹرز، ہاؤسنگ اداروں اور ڈیولپرز کے ساتھ شراکت داری کرنا ہوگی۔ مالیاتی مصنوعات کا رخ اُن طبقات کی طرف کرنا ہوگا جنہیں اس سہولت تک باآسانی رسائی نہیں۔ (جیسے پہلی بار گھر خریدنے والے افراد، کم آمدن والے خاندان، رسمی اور غیر رسمی شعبوں سے وابستہ کارکنان)۔ ادائیگی کی مدت اتنی طویل ہونی چاہیے کہ ماہانہ اقساط قابلِ برداشت رہیں۔ ڈاؤن پیمنٹ اور لین دین کے اخراجات کم کیے جائیں یا اُن پر سبسڈی دی جائے اور شریعہ کمپلائنٹ مالیاتی حل کو فروغ دیا جائے۔


ایک ایسے ملک میں جہاں معاشی چیلنجز بار بار جنم لیتے رہتے ہیں، رہائش ایک مستحکم اور مستقل بنیاد فراہم کرتی ہے۔ گھر کی ملکیت انسان کو باوقار بناتی ہے، یہ نسل در نسل دولت کو ممکن بناتی ہے، خاندانوں کو سہارا دیتی ہے، ریاستی فلاحی نظام پر مالی بوجھ کم کرتی ہے اور شہریوں کو بااختیار بناتی ہے۔ کم لاگت رہائش صرف اینٹ اور سیمنٹ کا معاملہ نہیں، بلکہ شمولیت، معاشی رفتار اور قومی استحکام کے لیے ایک اسٹریٹجک ذریعہ ہے۔ فیصل بینک جیسے ادارے اگر اس میدان میں قدم رکھتے ہیں تو نہ صرف مارکیٹ ترقی کرے گی بلکہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد اپنا گھر حاصل کرسکے گی، جس سے مستحکم، جامع اور ترقی پسند معیشت تشکیل پائے گی۔

0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی