قرآن مجید میں جتنی بھی قوموں کی تباہی کا ذکر ہے، ان میں سے ایک بھی قوم کی تباہی کی وجہ روزہ، حج، زکوۃ چھوڑنا نہیں تھی....
بلکہ کم تولنا، رشوت ستانی، انصاف نہ کرنا، کسی کا حق کھانا، ملاوٹ کرنا، کسی کو ناحق قتل کرنا تھا،
اگر سادہ الفاظ میں کہوں تو معاملہ ، حقوق العباد کا تھا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
فَاَصْلِحُوْا بَیْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْاؕ ۔ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ (سورہ الحجرات آیت نمبر 9)
ترجمہ : تو انصاف کے ساتھ ان میں صلح کروا دو اور عدل کرو ، بیشک اللہ عدل کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم سے پہلی قومیں اس لیے برباد ہوئیں جب اُن کا کوئی بڑا جرم کرتا تو اُسے چھوڑ دیا جاتا اور جب کوئی معمولی آدمی جرم کرتا تو اُسے سزا دی جاتی ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 4304)
سورۃ المائدہ میں فرمایا : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ٘ - وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْاؕ - اِعْدِلُوْا - هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى٘ - وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (سورہ الماٸدہ آیت نمبر 8)
ترجمہ : اے ایمان والو! انصاف کے ساتھ گواہی دیتے ہوئے اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ اور تمہیں کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ تم انصاف نہ کرو (بلکہ) انصاف کرو، یہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے ۔
پس کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں ہم نے انہیں تباہ کر دیا تو وہ اپنی چھتوں سمیت گری پڑی ہیں اور کئی ایک بیکار کنویں اور کتنے ہی مضبوط محل ویران پڑے ہیں ۔ کیا انہوں نے کبھی زمین میں گھوم پھر کر نہیں دیکھا کہ ان کے دل ان باتوں کو سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان کی باتیں سن لیتے بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوئیں بلکہ وہ دل اندھے ہو چکے ہیں جو سینوں میں پڑے ہیں ۔ (سورہ الحج 45 ، 46)
اور کتنی ایسی بستیاں تھیں ، جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا ۔ تب آیا ان پر ہمارا عذاب رات کے دوران یا دوپہر کے وقت جب وہ آرام کر رہے تھے ۔ پھر جب ان پر ہمارا عذاب آ گیا تو ان کا کہنا یہی تھا کہ ہم خود ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے ۔ (سورہ الاعراف آیات 4,5 ) ۔
آگے فرمایا : کیا ان بستیوں کے لوگ اس بات سے مامون ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کے دوران آ جائے اور وہ سوئے پڑے ہوں؟ کیا ان بستیوں کے لوگ اس بات سے مامون ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب چاشت کے وقت آ جائے اور وہ کھیل میں لگے ہوں ؟ ۔ (سورہ الاعراف آیات 97,97)
حضرت انس رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کر وخواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے عرض کی ، یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر وہ مظلوم ہو تو مدد کروں گا لیکن ظالم ہو تو کیسے مدد کروں ؟ ارشاد فرمایا ’’ اس کو ظلم کرنے سے روک دے یہی (اس کی) مدد کرنا ہے ۔ (صحیح بخاری، کتاب الاکراہ، باب یمین الرجل لصاحبہ... الخ، ۴ / ۳۸۹، الحدیث: ۶۹۵۲،چشتی)
حضرت علی رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ مظلوم کی بددعا سے بچو ، وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا حق مانگتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی حق والے کا حق اس سے نہیں روکتا ۔ (شعب الایمان،التاسع والاربعون من شعب الایمان ... الخ، فصل فی ذکر ماورد من التشدید... الخ، ۶ / ۴۹، الحدیث: ۷۴۶۴)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کا اپنے مسلمان بھائی پر اس کی آبرو یا کسی اور چیز کا کوئی ظلم ہو تو وہ آج ہی اس سے معافی لے لے ، اس سے پہلے کہ (وہ دن آجائے جب) اس کے پاس نہ دینار ہو نہ درہم ، (اس دن) اگر اس ظالم کے پاس نیک عمل ہوں گے تو ظلم کے مطابق اس سے چھین لیے جائیں گے اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیں گے ۔ (صحیح بخاری ، کتاب المظالم و الغصب ، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل... الخ، ۲ / ۱۲۸، الحدیث: ۲۴۴۹،چشتی)(مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب الظّلم، الفصل الاول، ۲ / ۲۳۵، الحدیث: ۵۱۲۶)
حضرت انس رَضِیَ اللہ عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو کسی مظلوم کی فریاد رسی کرے، اللہ تعالیٰ اس کےلیے 73 مغفرتیں لکھے گا ، ان میں سے ایک سے اس کے تمام کاموں کی درستی ہوجائے گی اور 72 سے قیامت کے دن اس کے درجے بلند ہوں گے۔(شعب الایمان، الثالث والخمسون من شعب الایمان... الخ، ۶ / ۱۲۰، الحدیث: ۷۶۷۰،چشتی)
عدل درحقیقت اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی عظیم الشان صفت ہے ، قرآن کریم میں ارشاد ہے : شَھِدَ اللّٰہُ أَنَّہٗ لَا إِلٰہَ إِلَّا ھُوَ وَالْمَلٰئِکَۃُ وَأُولُوْا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلٰـہَ إِلاَّ ھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔ (آلِ عمران:۱۸)
ترجمہ : اللہ نے گواہی دی کہ کسی کی بند گی نہیں اس کے سوااور فر شتوں نے اور علم والوں نے بھی، وہی حاکم انصاف کا ہے ۔ کسی کی بند گی نہیں سوا اس کے ، زبردست ہے حکمت والا ۔
یٰآ أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَائَ لِلّٰہِ وَلَوْ عَلٰی أَنْفُسِکُمْ أَوِالْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِیْنَ إِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا أَوْفَقِیْرًا فَاللّٰہُ أَوْلٰی بِھِمَا فَلاَ تَتَّبِعُوْا الْھَوٰی أَنْ تَعْدِلُوْا ۔ (النساء:۱۳۵)
ترجمہ : اے ایمان والو! قائم رہو انصاف پر ، گواہی دو اللہ کی طرف کی ، اگر چہ نقصان ہو تمہارا ، یا ماں باپ کا ، یا قرابت والوں کا، اگر کوئی مالدار ہے یا محتاج ہے تو اللہ ان کا خیرخواہ تم سے زیادہ ہے ، سو تم پیروی نہ کرو دل کی خواہش کی انصاف کرنے میں ۔
حال میں عدل و انصاف کو قائم رکھیں : یٰآ أَیُّھَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَائَ بِالْقِسْطِ وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَأٰنُ قَوْمٍ عَلٰی أَنْ لَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ھُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوْا اللّٰہَ إِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (المائدۃ:۸)
ترجمہ : اے ایمان والو! کھڑے ہوجایا کرو اللہ کے واسطے گواہی دینے کو اور کسی قوم کی دشمنی کے باعث انصاف کو ہرگز نہ چھوڑو ، عدل کرو ، یہی بات زیادہ نزدیک ہے تقویٰ سے اور ڈرتے رہو اللہ سے ، اللہ کو خوب خبر ہے جو تم کر تے ہو ۔
وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ نُّھْلِکَ قَرْیَۃً أَمَرْنَا مُتْرَفِیْھَا فَفَسَقُوْا فِیْھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰھَا تَدْمِیْرًا ۔ (بنی اسرائیل:۱۶)
ترجمہ : اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کر نا چاہتے ہیں تو اس کے خوش عیش لوگوں کو حکم دیتے ہیں ، پھر جب وہ لوگ وہاں شرارت مچا تے ہیں ، تب ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے ، پھر اس بستی کو تباہ اور غارت کر ڈالتے ہیں ۔
ایک تبصرہ شائع کریں