مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں ; اصل زندگی!

اصل زندگی!

  مولانا جلال الدین رومی فرماتے ہیں۔ 

دنیادار موت سے اس لیے گھبراتا ہے کہ اسے گمان ہے موت اس کے رنگ و بو والے باغ کو چھین لے گی،
مگر اے دوست! درویش جانتا ہے کہ یہ باغ تو محض سراب ہے۔ وہ دنیا کو مسافر خانہ سمجھتا ہے، مستقل ٹھکانہ نہیں۔ موت اسے خوف نہیں دیتی،
کیونکہ موت تو اس کے لیے پردہ اٹھنے کا نام ہے،
وہ لمحہ جب محبوب کا دیدار نصیب ہوتا ہے۔ وہ جان چکا ہے کہ اصل زندگی وہاں ہے۔ جہاں قرب ہے، جہاں وصال ہے۔ یہ دنیا تو ایک امتحان ہے، ہمیں یہاں اس لیے اتارا گیا ہے۔ کہ ہم سمندرِ ہجر میں تیرنا سیکھیں تاکہ بحرِ وصال کی قدر جان سکیں۔ اصل زندگی محبوب کی قربت میں ہے،اسی لیے رومی کہتا ہے: “مرنے سے پہلے مر جا”
یعنی اپنی انا، اپنی خواہش، اپنی نفسانی گرفت کو توڑ دے۔ نفس کو ہرانا ہی زندگی ہے، اور دل کو مالک کی محبت سے روشن کرنا ہی حیات۔ اس کی مخلوق سے محبت کر، کیونکہ محبت ہی رب تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ جو دنیا کی چمک میں ڈوب گیا، وہ کھو گیا، اور جو صبر و شکر کے جام سے سیراب ہوا، وہ پا گیا۔ دینا ہو یا نہ دینا،
رومی کے نزدیک ہر حال میں شکر ہی عبادت ہے۔



0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی