وزارتِ تجارت کا گوشت کی برآمدات پر اضافی کارگو چارجز کا نوٹس، فوری کارروائی کی ہدایت


کراچی : وزارتِ تجارت نے گوشت برآمد کرنے والوں کی شکایات پر اہم قدم اٹھاتے ہوئے ایوی ایشن حکام سے اضافی کارگو چارجز کے معاملے کی فوری تحقیقات اور حل طلب کر لیا ہے، جسے جاری تنازع میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 وزارتِ تجارت کی جانب سے 17 مارچ 2026 کو جاری کردہ ایک باضابطہ خط میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کراچی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کارگو ہینڈلنگ کمپنی جیریز ڈناتا کی جانب سے مبینہ طور پر عائد کیے گئے "غیر مجاز اضافی چارجز" کے معاملے کا جائزہ لے کر اسے حل کریں۔



یہ کارروائی آل پاکستان میٹ ایکسپورٹرز اینڈ پروسیسرز ایسوسی ایشن (APMEPA) کی جانب سے جمع کرائی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ نئے چارجز کی وجہ سے برآمدی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستان کی عالمی منڈی میں مسابقت متاثر ہو رہی ہے۔

ایکسپورٹرز کے مطابق جیریز ڈناتا نے حال ہی میں گوشت کی برآمدات پر 50 روپے فی کلوگرام اضافی چارج عائد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں کھیپ کو ایکسپورٹ کے لیے پراسیس نہیں کیا جائے گا۔

صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اضافی لاگت تقریباً 180 ڈالر فی ٹن بنتی ہے، جو عالمی منڈی میں پہلے سے سخت مقابلے کا سامنا کرنے والے پاکستانی برآمدکنندگان کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

وزارتِ تجارت کے حکام نے اپنے خط میں نشاندہی کی ہے کہ 15 مارچ کو وزیراعظم کی زیر نگرانی سرپلس فوڈ آئٹمز کی جی سی سی ممالک کو برآمدات سے متعلق کمیٹی کو آگاہ کیا گیا تھا کہ یہ اضافی چارجز واپس لے لیے گئے ہیں۔

تاہم برآمدکنندگان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور یہ چارجز بدستور وصول کیے جا رہے ہیں، جس پر وزارت نے معاملے کو فوری طور پر حل کرنے اور برآمدکنندگان کے اطمینان تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

 وزارت نے متعلقہ حکام سے یہ بھی کہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج سے کمیٹی کو آگاہ کیا جائے۔

برآمدکنندگان نے خبردار کیا ہے کہ کارگو چارجز میں غیر یقینی صورتحال گوشت جیسی خراب ہونے والی اشیاء کی برآمدات کو متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ یہ صنعت مکمل طور پر مربوط کولڈ چین اور ایئر کارگو نظام پر انحصار کرتی ہے۔

پاکستان کی گوشت برآمدی صنعت گزشتہ دہائی میں نمایاں طور پر ترقی کر چکی ہے اور اس وقت خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ کی منڈیوں کو حلال گوشت فراہم کر رہی ہے۔

صنعتی ماہرین کے مطابق برآمدات میں تسلسل کے لیے لاگت کا استحکام نہایت ضروری ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان کو برازیل اور آسٹریلیا جیسے بڑے برآمدی ممالک سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ایکسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کارگو ہینڈلنگ چارجز کو شفاف اور ریگولیٹ کیا جائے، کیونکہ اچانک اور یکطرفہ اضافے نہ صرف صنعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ ملک کی مجموعی برآمدی حکمتِ عملی کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی