الغازی ٹریکٹرز پی اے سی کی ایگری کنیکشنز کانفرنس کا پلاٹینم اسپانسر، زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر زور

 غذائی تحفظ کیلئے زرعی مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانا ہوگا: یاسین سیکر

لاہور،  الغازی ٹریکٹرز لمیٹڈ (AGTL) نے پاکستان ایگریکلچرل کولیشن (PAC) کی ایگری کنیکشنز کانفرنس و ایکسپو 2026 میں پلاٹینم اسپانسر کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے پاکستان میں غذائی تحفظ کیلئے جدید اور مؤثر زرعی مشینری کے استعمال اور کسانوں تک جدید زرعی ٹیکنالوجی کی رسائی بہتر بنانے پر زور دیا۔

لاہور ایکسپو سینٹر میں یکم اور 2 اکتوبر کو حکومت پنجاب کے اشتراک سے منعقد ہونے والی ایگری کنیکشنز کانفرنس و ایکسپو 2026 کا موضوع ”موسمیاتی تبدیلی کے دور میں غذائی تحفظ اور زرعی سرمایہ کاری“ تھا۔ایونٹ میں ورلڈ بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) اور اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) نے اسٹریٹجک شراکت داروں کی حیثیت سے شرکت کی۔ کانفرنس میں اعلیٰ حکام، پالیسی سازوں، کثیرالجہتی اداروں، زرعی کاروبار سے وابستہ شخصیات، مالیاتی اداروں اور ترقی پسند کسانوں نے شرکت کی۔

کانفرنس کے پہلے روز خطاب کرتے ہوئے الغازی ٹریکٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر یاسین سیکر نے پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش چار بڑے مسائل کی نشاندہی کی، جن میں علاقائی معیار کے مقابلے میں فصلوں کی کم پیداوار، خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب، چھوٹے کسانوں کیلئے زرعی مداخل کی بڑھتی لاگت اور بے قاعدہ مون سون، شدید گرمی اور پانی کی قلت کے بڑھتے ہوئے اثرات شامل ہیں۔

یاسین سیکر نے کہا کہ الغازی ٹریکٹرز کا کردار صرف ٹریکٹر کی تیاری تک محدود نہیں بلکہ مقامی پیداوار، سپلائرز کی ترقی، دیہی علاقوں میں ہنرمندی کی منتقلی اور ملک بھر میں سروس نیٹ ورک کی فراہمی بھی کمپنی کی خدمات کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی 1983 سے ڈیرہ غازی خان میں قائم اپنے پلانٹ کے ذریعے پاکستان میں نیو ہالینڈ ٹریکٹرز تیار کر رہی ہے۔

یاسین سیکر نے کہا کہ ”کئی دہائیوں سے پاکستانی کسانوں کو مناسب قیمت پر قابلِ اعتماد ہارس پاور کی ضرورت رہی ہے اور یہ ضرورت آج بھی موجود ہے، تاہم کسانوں کی ضروریات تبدیل ہو رہی ہیں۔ آج کسان پیداوار میں اضافہ، مشین کی مسلسل کارکردگی، ہر زرعی مداخل کے مؤثر استعمال اور مشین کی پوری مدتِ استعمال کے دوران معاونت چاہتے ہیں۔“




انہوں نے زرعی شعبے میں فوری طور پر مفید ثابت ہونے والی دو ٹیکنالوجیز کی نشاندہی کرتے ہوئے ٹیلی میٹکس اور زرعی مشینری کی درست رہنمائی اور خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کو اہم قرار دیا۔


ان کے مطابق ٹیلی میٹکس کے ذریعے مشین کی حالت کی حقیقی وقت میں نگرانی، خرابی کی بروقت اطلاع اور مشین کے استعمال سے متعلق واضح معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، جس سے خرابی کے بعد مرمت کے بجائے پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت مشین کی دیکھ بھال ممکن ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ زرعی مشینری کی درست رہنمائی اور خودکار ڈرائیونگ ٹیکنالوجی کے ذریعے کھیت میں مشین کے غیر ضروری بار بار گزرنے کو کم کیا جا سکتا ہے، بیج، کھاد اور زرعی ادویات زیادہ درست انداز میں استعمال کی جا سکتی ہیں اور آپریٹر کے تجربے سے قطع نظر کام کے نتائج میں یکسانیت پیدا کی جا سکتی ہے۔

یاسین سیکر نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عملی ہونا چاہیے اور اس کی بنیاد کسان کی ضرورت اور فائدے پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اس عمل کا آغاز بنیادی مشینی کاشت اور سروس سہولیات کو مضبوط بنانے سے ہونا چاہیے، جس کے بعد زیادہ اہمیت رکھنے والی ٹیکنالوجیز کو آزمائشی بنیادوں پر استعمال کیا جائے، ان کے معاشی فوائد کو کسان کی سطح پر ثابت کیا جائے، ڈیلرز اور سروس فراہم کرنے والوں کی صلاحیت بہتر بنائی جائے اور صرف ان ٹیکنالوجیز کو بڑے پیمانے پر اپنایا جائے جو کسانوں کیلئے واضح اور ثابت شدہ فائدہ فراہم کریں۔

انہوں نے کہا کہ ”ٹیکنالوجی کا استعمال فائدے کی بنیاد پر ہونا چاہیے، ٹیکنالوجی کو مقصد نہیں بلکہ کسان کیلئے بہتر نتائج حاصل کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ اگر کوئی حل کسان کے اپنے کھیت میں اپنی افادیت ثابت نہیں کرسکتا تو اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ یہی طریقہ جدت کو پیداوار میں حقیقی اضافے اور غذائی تحفظ میں تبدیل کرے گا۔“کانفرنس کے دوسرے روز یاسین سیکرنے ”زراعت میں ٹیکنالوجی کا مستقبل“ کے عنوان سے اعلیٰ سطحی پینل میں شرکت کی، جہاں انہوں نے پاکستان میں روایتی ٹریکٹرائزیشن سے آگے بڑھ کر مشینری، پریسیژن ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ذرائع اور کسانوں تک بہتر رسائی پر مشتمل مربوط نظام کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم گزشتہ ایک سال کے دوران ٹریکٹر کی پیداوار اور فروخت میں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف دستیاب مشینوں کی تعداد کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ کسان انہیں خریدنے، ان کیلئے مالی سہولت حاصل کرنے اور ان تک رسائی رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔

یاسین سیکر نے کہا کہ پاکستان کے بیشتر زرعی فارم چھوٹے رقبے پر مشتمل ہیں، اس لیے مشینری کرائے پر فراہم کرنے، لیزنگ، مشینری کے مشترکہ استعمال اور مشینی کاشت بطور سروس جیسے ماڈلز جدید زرعی آلات ان کسانوں تک پہنچانے میں مدد دے سکتے ہیں جو ہر مشین ذاتی ملکیت میں رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

الغازی ٹریکٹرز نے کانفرنس کے دوران اس امر پر بھی زور دیا کہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کمپنی کے مطابق کسانوں کو یہ طے کرنے میں کردار ادا کرنا ہوگا کہ ان کیلئے کون سی ٹیکنالوجی موزوں اور مفید ہے، جبکہ مینوفیکچررز اور ڈیلرز کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال اور دیکھ بھال کیلئے ضروری صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔

حکومت کو پالیسی فریم ورک اور زرعی توسیعی خدمات فراہم کرنا ہوں گی، مالیاتی اداروں کو زرعی مشینری کیلئے قابلِ استطاعت مالی سہولیات اور فصلوں کی انشورنس فراہم کرنا ہوگی، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کو مقامی حالات کے مطابق حل تیار کرنا ہوں گے جبکہ ترقیاتی اداروں کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ چھوٹے کسان جدید ٹیکنالوجی کے فوائد سے محروم نہ رہیں۔

یاسین شیکر نے کہا کہ ”کوئی ایک فریق اکیلا اس خلا کو ختم نہیں کرسکتا۔ جب حکومت، مالیاتی ادارے، مینوفیکچررز، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے اور کسان ایک ساتھ آگے بڑھیں گے تو جدید زرعی ٹیکنالوجی قابلِ استطاعت، قابلِ رسائی اور عملی طور پر کسانوں کیلئے مفید بن سکے گی۔“

ایگری کنیکشنز کانفرنس و ایکسپو کے دوران ال غازی ٹریکٹرز نے زرعی شعبے سے وابستہ افراد اور شرکا کیلئے اپنے اسٹال پر نیو ہالینڈ ٹریکٹرز بھی پیش کیے۔

الغازی ٹریکٹرز کی جانب سے کانفرنس میں پلاٹینم اسپانسر کی حیثیت سے شرکت، جون 2026 میں پاکستان ایگریکلچرل کولیشن کے پیٹرن کے طور پر کمپنی کی شمولیت کے بعد اس شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے کی کڑی ہے۔اس شراکت داری کے ذریعے ال غازی ٹریکٹرز پاکستان میں چار دہائیوں سے زائد عرصے سے نیو ہالینڈ ٹریکٹرز کی تیاری کے اپنے تجربے کو پاکستان ایگریکلچرل کولیشن کے نجی شعبے کی قیادت میں زرعی شعبے کو زیادہ پیداواری، ٹیکنالوجی پر مبنی اور مسابقتی بنانے کے قومی ایجنڈے کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔

0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی