ایک لطیفہ.... صرف بالغوں کے لیے 😂😃😝
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک سردارجی اپنے سانجھی کے ساتھ کسی ویران سُنسان رستے پر جھومتے جھامتے چلے جا رہے تھے۔ یکایک اُنھیں ایک رہزن نے للکار کر روک لیا۔ تیز دھار کا خنجر لہرایا اورگرج کر کہا:
’’ جو کچھ بھی جیب میں ہے نکال دو، ورنہ تمھارا تورا بورا بنا دوں گا۔ تمھیں پتھر کے دور میں پہنچا دوں گا‘‘۔
سردار جی نے فی الفور اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنی کُل جمع پونجی اُس کے حوالے کردی:
’’انکل جی! اپنے پاس تو بس یہی کچھ ہے‘‘۔
رہزن اُسی پر شاد ہوا۔ کیوں کہ اُسے تو سردار جی سے اکڑ جانے اور مقابلے کی نوبت آجانے کاخطرہ تھا۔ سو خوشی خوشی رقم لے کر چمپت ہوا۔
سردارجی کو جب یقین ہو گیا کہ لٹیرا مطمئن ہوچکا ہے۔ اب مزید کچھ مانگنے نہیں آئے گا تو اطمینان کا ایک گہرا سانس لے کر بولے:
’’ شُکر ہے اُس نے مزید کچھ مانگنے پر اصرار نہیں کیا‘‘۔
ساتھی نے تجسس سے پوچھا:
’’ کیوں کیا تمھارے پاس اُسے دینے کو اس سے بھی زیادہ کچھ تھا۔۔۔ سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات؟ ‘‘
سردار جی نے پہلے تو بڑے جوش و خروش سے تردید کی:
’’ او ناں جی! ‘‘
پھر جیب سے نکال کر دکھایا کہ:
’’ میری اندر کی جیب میں یہ بھرا ہوا آٹومیٹک پستول پڑا ہوا تھا۔ نیا نیا ولایت سے منگوایا ہے، اس کو بھی لوٹ لے جاتا تو۔۔۔؟‘‘!!!

ایک تبصرہ شائع کریں