مزے مزے کے لطیفے ، لطیفے ہی لطیفے ، 5 مزے کے لطیفے

سردار جی نے جلدی میں ائیر پورٹ فون کر کے فلائیٹ کا ٹائیم پوچھا ۔۔۔ مبادہ لیٹ نہ ہو جائیں ۔
سردار جی :- او جی کلکتہ جاون والا جہاز کِدوں جائیگا۔۔۔؟
انکوائری سے جواب مِلا :- ؛؛ جسٹ اے منٹ ؛؛
سردار جی :- ؛؛ شکریہ؛؛
کہہ کے فون بند کر دیا۔


ایک سہیلی نے اپنی دوسری سہیلی کے گلے میں قیمتی لاکٹ دیکھتے ہوئے پوچھا

“ اس لاکٹ میں تو یقیناً تم نے کوئی یادگار چیز محفوظ کی ہوگی ۔۔ ہے نا؟

“ ہاں ! اس میں میرے شوہر کے چند بال ہیں “ سہیلی نے کہا

“لیکن تمھارے شوہر تو زندہ ھیں“ سہیلی نے استفسار کیا

“ لیکن ان کے بال تو جھڑ چکے ہیں نا “ سہیلی نے وضاحت کی




ایک سردار نے دوسرے سردار جی کو ریلوے اسٹیشن پہ دیکھا تو پوچھا
سردار جی کیداں
دوسرے سردار جی بولے
تیری پرجائی نوں ٹرین تے بٹھا کے آیا واں ،
تو پہلے سردار نے کہا او تے ٹھیک اے پر اے ہتھ کیوں کالے کیتے جے ،
تو دوسرے سردار جی بولے ،،
انجن کو شاباش دے کے آیا واں کہ شاباش تیرے کہیڑی بلا نوں لے کے چلیا ویں



ایک بچہ اپنی ماں سے بچھڑ گیا پولیس والے نے اسے روتے دیکھا تو پوچھا
“تمھاری ماں کی پہچان کیا ہے“
بچے نے روتے ہوئے جواب دیا
“وہ اکیلی جا رہی ہونگی“


ایک بچے نے دوسرے سے پوچھا “یہ بجلی کہاں سے آتی ہے؟”۔
دوسرا بچہ بولا “میرے ماموں بھیجتے ہیں”۔
پہلا بچہ “وہ کیسے؟”۔
دوسرا بچہ بولا جب بھی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے میرے ابو کہتے ہیں “لو سالوں نے پھر بجلی بند کر دی”۔
پسندیدہ



ایک دوست دوسرے سے کہتا ہے : “یار جب شادی ہوتی ہے تو دولہے کو گھوڑے پر بٹھاتے ہیں، گدھے پر کیوں نہیں بٹھاتے، حالانکہ وہ بھی ویسا ہی جانور ہے اور قد کاٹھ میں بھی تقریباً اتنا ہی بڑا ہے۔“

دوست نے جواب دیا : “اگر اس کو گدھے پر بٹھائیں تو پھر پتہ نہیں چلتا کہ کس گدھے کی شادی ہو رہی ہے۔“






0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی