غذائی تحفظ اور زرعی استحکام کے لیے 60 ملین امریکی ڈالر کی قابلِ تجدید مالی معاونت کا اعلان

آئی ایف سی اور فاطمہ فرٹیلائزر کا پاکستان میں غذائی تحفظ اور زرعی استحکام کے لیے 60 ملین امریکی ڈالر کی قابلِ تجدید مالی معاونت کا اعلان


لاہور؛   فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) نے پاکستان میں غذائی تحفظ کے فروغ اور زرعی شعبے کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سالانہ 60 ملین امریکی ڈالر تک کی قابلِ تجدید مالی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ اس معاونت کے تحت فاطمہ فرٹیلائزر کو ضروری خام مال، مشینری اور تکنیکی خدمات کی درآمد کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ دستیاب ہوگا تاکہ ملکی سطح پر کھاد کی پیداوار بلا تعطل جاری رکھی جا سکے۔

پاکستان کو حالیہ برسوں میں زرمبادلہ کی قلت اور درآمدی کلیئرنس میں تاخیر جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث زرعی پیداوار کے لیے ضروری خام مال کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ مالی سہولت ایسے نازک وقت میں ایک اہم مارکیٹ میں خلا کو پُر کرتی ہے، جب امریکی ڈالر میں فنانسنگ تک رسائی محدود ہو۔  اس مالی معاونت سے فاطمہ فرٹیلائزر کو اپنی پیداواری صلاحیت مکمل طور پر بروئے کار لانے میں مدد ملے گی۔




اس فنانسنگ کے نتیجے میں کمپنی کی سالانہ تقریباً14لاکھ  60 ہزار میٹرک ٹن کھاد کی پیداوارمسلسل جاری رکھنے میں مدد ملے گی، اورصادق آباد پلانٹ میں 850 سے زائد براہِ راست ملازمتیں محفوظ رہیں گی۔ مزید برآں، ملک بھر میں کھاد کی ترسیل سے وابستہ ہزاروں چھوٹے کاروباروں کو استحکام ملے گا اور گندم و چاول جیسی بنیادی فصلوں کی پیداوار کو تحفظ حاصل ہوگا۔

فاطمہ فرٹیلائزر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فواد احمد مختار کا اس موقع پر کہنا تھا:
“یہ شراکت داری نہ صرف فاطمہ فرٹیلائزر بلکہ پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ قابلِ اعتماد مالی سہولت ہمیں اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مستحکم رکھنے، کسانوں کو ضروری غذائی اجزاء کی مسلسل فراہمی اور غذائی تحفظ کے اہداف کے حصول میں مدد فراہم کرے گی۔ ہم IFC کے اعتماد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔”

IFC کے ریجنل انڈسٹری ہیڈ (مینوفیکچرنگ، ایگری بزنس اینڈ سروسز)، مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور ترکی، اشرف مجاہد نے کہا:
“اس نوعیت کی شراکت داریاں پاکستان کے کسانوں تک ضروری زرعی اجزاء کی بلا تعطل فراہمی کے لیے درکار مالی وسائل کو یقینی بناتی ہیں۔ اہم درآمدات کے لیے امریکی ڈالر میں فنانسنگ فراہم کر کے ہم غذائی تحفظ کے فروغ، روزگار کے تحفظ اور پاکستان میں زرعی ویلیو چین کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو گے۔”

 یہ اقدام کسانوں کے لیے کھاد کی قیمتوں میں استحکام، درآمدی کھاد پر انحصار میں کمی اور قومی غذائی تحفظ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا، جو پاکستان کی زرعی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔

0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی