مرچوں مثلاً مرچ پاوڈر یا ہاٹ ساس کے استعمال سے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی سطح بڑھتی ہے۔ مرچوں میں موجود Capsaicin یہ ایک قدرتی کیمیکل ہے جو مرچوں کو تیز بناتا ہے۔ Capsaicin جسم میں خوشی دینے والے کیمیکل خارج کرتا ہے اور ہارمونل ردعمل کو متحرک کرتا ہے جس سے ٹیسٹوسٹیرون کا لیول بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔ تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ جو مرد مصالحے دار کھانا پسند کرتے ہیں، وہ عام طور پر زیادہ رسکی، خوداعتماد اور جارحانہ فطرت کے ہوتے ہیں جو ٹیسٹوسٹیرون سے منسلک صفات ہیں۔
فرانس کی University of Grenoble میں کیے گئے ایک مطالعے میں یہ پایا گیا کہ جو مرد مرچوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان کے لعاب میں ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ جو مصالحہ کم کھاتے ہیں ان میں یہ ہارمون کم سطح پر ہوتا ہے۔ یعنی، مصالحے دار کھانے صرف ذائقے کے لیے نہیں، یہ ہارمونی سطح اور شخصیت پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔
نیچے وہی متن مزید واضح، جامع اور تین مناسب سرخیوں کے ساتھ پیش ہے:
1. مرچوں میں موجود Capsaicin اور ٹیسٹوسٹیرون کا تعلق
خاص طور پر مرچوں، جیسے مرچ پاؤڈر یا ہاٹ ساس، کے استعمال سے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کی سطح میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مرچوں میں موجود Capsaicin ایک قدرتی کیمیکل ہے جو مرچوں کو تیز بناتا ہے۔ یہی کیمیکل جسم میں ایسے کیمیکلز کے اخراج کو بڑھاتا ہے جو خوشی اور توانائی کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ Capsaicin ہارمونل ردِعمل کو بھی متحرک کرتا ہے، جس کے نتیجے میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
2. مصالحے دار کھانا اور شخصیت کی خصوصیات
تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو مرد مصالحے دار کھانا پسند کرتے ہیں، وہ عام طور پر زیادہ خوداعتماد، رسک لینے والے اور نسبتاً جارحانہ فطرت کے ہوتے ہیں۔ یہ تمام خصوصیات ٹیسٹوسٹیرون سے منسلک مانی جاتی ہیں۔ یعنی مصالحے دار کھانا صرف ذائقے کی بات نہیں، بلکہ یہ شخصیت کے کچھ پہلوؤں سے بھی جڑا ہوا ہے۔
3. University of Grenoble کی تحقیق کے نتائج
فرانس کی University of Grenoble میں کیے گئے ایک مطالعے میں یہ پایا گیا کہ جو مرد مرچوں کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان کے لعاب (saliva) میں ٹیسٹوسٹیرون کی مقدار نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جو افراد کم مصالحہ کھاتے ہیں، ان میں ٹیسٹوسٹیرون کی سطح نسبتاً کم دیکھی گئی۔ اس تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مصالحے دار کھانے نہ صرف جسمانی ہارمونز پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ شخصیت اور رویے پر بھی اپنا اثر چھوڑتے ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں