برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے سے بیرونی شعبہ شدید دباؤ میں
روپے کی قدر اور ٹیکس جانچ پڑتال نے برآمد کنندگان کی مشکلات بڑھا دیں
موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ (جولائی تا دسمبر) کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو برآمدات میں نمایاں کمی اور درآمدات میں متوقع حد سے زیادہ اضافے کا نتیجہ ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق یہ خسارہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہے اور سالانہ ہدف کے تقریباً دو تہائی کے برابر ہو چکا ہے، جس سے بیرونی شعبے کے استحکام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔
اس عرصے میں برآمدات ماہانہ، سالانہ اور ششماہی تینوں بنیادوں پر کم ہوئیں اور 8.7 فیصد کمی کے ساتھ 15.2 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ ہدف کا صرف 42 فیصد بنتی ہیں۔ برآمد کنندگان کا مؤقف ہے کہ روپے کی قدر زیادہ ہونے کے باعث ان کی عالمی مسابقت اور منافع بری طرح متاثر ہوا ہے۔ اس کے برعکس، تجارتی لبرلائزیشن سے متعلق ورلڈ بینک کی وہ توقعات پوری نہ ہو سکیں جن میں برآمدات میں نمایاں اضافے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔
دوسری جانب درآمدات میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا اور وہ 34.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو بیرونی کھاتوں پر اضافی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔ دسمبر میں صورتحال مزید خراب ہوئی جب برآمدات میں مسلسل پانچویں ماہ کمی آئی اور درآمدات پہلی بار 6 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ اسی دوران ایف بی آر کی جانب سے برآمد کنندگان کے ٹیکس گوشواروں کی جانچ پڑتال کے فیصلے نے کاروباری برادری میں تشویش پیدا کی، جس کے بعد ادارے کو وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا۔
.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں