بینکنگ سیکٹر میں بڑی تبدیلی: اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کا 2030 تک 7,800 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ

ٹیکنالوجی کا غلبہ: اسٹینڈرڈ چارٹرڈ سمیت دنیا بھر کے بڑے بینکوں اور ٹیک کمپنیوں میں اے آئی (AI) کے باعث برطرفیاں


لندن: برطانوی نشریاتی ادارے (BBC) کے مطابق، عالمی بینکنگ انڈسٹری کا بڑا نام 'اسٹینڈرڈ چارٹرڈ' اپنی ورک فورس میں ایک بہت بڑی تبدیلی لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ بینک نے اپنے مستقبل کے منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سال 2030 تک اپنے بیک آفس (Back-office) کے تقریباً 15 فیصد مینوئل کرداروں یعنی لگ بھگ 7,800 ملازمتوں کو ختم کر دے گا۔ اس بڑے فیصلے کی بنیادی وجہ بینکنگ امور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور آٹومیشن کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔

لندن میں قائم اس بینک کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمِ نو (Restructuring) بینک کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت جدید ترین اے آئی ٹولز، ایڈوانسڈ اینالیٹکس اور آٹومیشن کو اپنایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بینک کے اندرونی فیصلوں کو تیز بنانا، کارکردگی کو بہتر کرنا اور کسٹمر سروس کو مزید جدید بنانا ہے۔

کونسے ممالک اور عہدے متاثر ہوں گے؟


برطانوی میڈیا بشمول 'فنانشل ٹائمز' اور 'اسکائی نیوز' کی رپورٹس کے مطابق، اس کٹوتی کا سب سے زیادہ اثر ایڈمنسٹریٹو (انتظامی) اور آپریشنل پوزیشنز پر پڑے گا۔ یہ عہدے زیادہ تر بینک کے عالمی سپورٹ ہبز یعنی بھارت، چین، ملائیشیا اور پولینڈ میں موجود ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ وہ کچھ متاثرہ ملازمین کو دوسرے شعبوں میں منتقل (Redeploy) کرنے کی کوشش کرے گا، تاہم ابھی تک اس بات کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں کہ کس خطے سے کتنے لوگ فارغ کیے جائیں گے۔


بینکنگ سیکٹر میں بڑی تبدیلی: اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کا 2030 تک 7,800 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ




بینک کے چیف ایگزیکٹو بل ونٹرز کا یہ طویل مدتی پلان ہے جس کے تحت وہ ایشیا اور افریقہ پر توجہ مرکوز رکھنے والے اس بینک کو مکمل طور پر ایک ٹیک ڈریون (ٹیکنالوجی پر مبنی) ادارہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ بینک کے منافع میں اضافہ ہو سکے۔

بینکنگ اور ٹیک سیکٹر میں ملازمتوں کا بحران
صرف اسٹینڈرڈ چارٹرڈ ہی نہیں، بلکہ دنیا بھر کے مالیاتی ادارے اب انسانوں کا کام مشینوں سے لے رہے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں سنگاپور کے ڈی بی ایس (DBS) بینک نے بھی آٹومیشن کے باعث اگلے تین سالوں میں 4,000 کنٹریکٹ اور عارضی ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بینکنگ کے علاوہ ٹیک انڈسٹری بھی اس لہر کی لپیٹ میں ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں ایک طرف تو اے آئی انفراسٹرکچر پر اربوں ڈالرز پانی کی طرح بہا رہی ہیں، اور دوسری طرف ملازمین کی چھانٹی کر رہی ہیں۔

  • میٹا (Meta): نے اپنے 10 فیصد ورک فورس (تقریباً 8,000 ملازمین) کو نکالنے کا اعلان کیا۔

  • ایمیزون (Amazon): نے جنوری میں 30,000 سے زائد ملازمین فارغ کرنے کا فیصلہ کیا۔

  • اوریکل (Oracle): نے بھی حالیہ دنوں میں 10,000 سے زائد ملازمتیں ختم کیں۔

ماہرین کی تشویش اور مستقبل کا منظرنامہ


معاشی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ عالمی لیبر مارکیٹ میں ایک بڑا سٹرکچرل شفٹ (ساختی تبدیلی) ہے۔ اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس ان کاموں کو سنبھال رہی ہے جن میں انسانوں کو بار بار ایک ہی جیسے ذہنی کام کرنے پڑتے تھے، خصوصاً فنانس، ایڈمنسٹریشن اور کسٹمر آپریشنز میں۔

اگرچہ کمپنیاں اسے 'کارکردگی میں بہتری' کا نام دے رہی ہیں، لیکن ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ اس سے مڈل لیول کے انتظامی ورکرز اور کارپوریٹ سیکٹر میں قدم رکھنے والے نئے گریجویٹس بری طرح متاثر ہوں گے۔ اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کا یہ فیصلہ صاف اشارہ ہے کہ عالمی بینکنگ میں بڑے انسانی بیک آفس کا دور اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی