شمالی علاقوں میں موسمیاتی بحران اب کوئی دور دراز خطرہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک فعال انسانی چیلنج بن چکا ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔
کراچی، پاکستان: ورلڈ انوائرمنٹ ڈے کے موقع پر آغا خان یونیورسٹی (AKU) نے ہیبٹ سٹی میں حیا فاطمہ اقبال کی ہدایت کاری میں بننے والی دستاویزی فلم” The Sky is Far, The Earth is Tough, “کی عوامی اسکریننگ کا انعقاد کیا۔ یہ فلم ”وائسز فرام دی روف آف دی ورلڈ (VRW) “ دستاویزی سیریز کا حصہ ہےs جو اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیاں شمالی پاکستان کی پہاڑی برادریوں کی جسمانی صحت اور ذہنی فلاح و بہبود کو کس طرح متاثر کر رہی ہیں۔
فلم نے ان شمالی برادریوں کی ثابت قدمی اور کمزوریوں کی ایک بے لاگ تصویر پیش کی اور فلم سازوں، موسمیاتی تبدیلی کے حامیوں، طلبہ اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مثبت تبدیلی لانے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا تاکہ کمزور آبادیوں کو درپیش فوری ماحولیاتی بحرانوں پر گفتگو کی جا سکے۔
اسکریننگ کے بعد ماہرین اور فلم سازوں کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ پہاڑی خطے عالمی اوسط کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رفتار سے گرم ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، تباہ کن اچانک سیلاب رونما ہو رہے ہیں اور غیر متوقع لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ ان تبدیلیوں نے نہ صرف بنیادی انفراسٹرکچر کو متاثر کیا ہے بلکہ طویل المدتی نقل مکانی اور معاشی عدم استحکام کو بھی جنم دیا ہے، جس کے باعث مقامی برادریاں ایک مسلسل انسانی اور ذہنی صحت کے بحران کا سامنا کر رہی ہیں، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں ان کا حصہ سب سے کم ہے۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے آغا خان یونیورسٹی کے برین اینڈ مائنڈ انسٹیٹیوٹ کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر برائے جنوبی و وسطی ایشیا ڈاکٹر روزینہ کرمالیانی نے کہا”ہمارے شمالی علاقوں میں موسمیاتی بحران اب کوئی دور دراز خطرہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک فعال انسانی چیلنج بن چکا ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ ہمیں موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے اقدامات میں ذہنی صحت کو بھی شامل کرنا ہوگا۔“
انہوں نے مزید کہا”وائسز فرام دی روف آف دی ورلڈ کے ذریعے ہمارا مقصد ان پہاڑی برادریوں کی حقیقی زندگی کی تلخ حقیقتوں کو مکالمے کے مرکز میں لانا ہے۔ بصری کہانی سنانے کا عمل اعداد و شمار سے آگے دیکھنے میں مدد دیتا ہے اور ماحولیاتی تباہی کے محاذ پر زندگی گزارنے والے افراد کی حقیقی انسانی قیمت اور غیر معمولی ثابت قدمی کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔“
آغا خان یونیورسٹی کی فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ پروین نے کہا”اگر ہم برادریوں میں دیرپا مضبوطی اور مزاحمت پیدا کرنا چاہتے ہیں تو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی کو ہمارے تعلیمی فریم ورک کا حصہ بنانا ناگزیر ہے۔ توجہ اس بات پر مرکوز ہونی چاہیے کہ نئی نسل کو ماحولیاتی پائیداری کی تعلیم سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ ان موسمیاتی حقائق کو سمجھ سکے، ان کے مطابق خود کو ڈھال سکے اور ان کے خلاف مؤثر آواز بلند کر سکے جو تیزی سے کمزور علاقوں کو متاثر کر رہے ہیں۔“
حیا فاطمہ اقبال، اکیڈمی اور دو مرتبہ ایمی ایوارڈ یافتہ فلم ساز نے کہا”آبائی زمینوں کا نقصان اور قدرتی آفات کا مسلسل خطرہ ان آبادیوں پر گہرے اور اکثر غیر دستاویزی ذہنی صدمات مرتب کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی وکالت کو علاقائی اعداد و شمار سے آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ماحولیاتی تباہی کے نتیجے میں ہونے والے گہرے انسانی نقصان اور لوگوں کے ذہنوں پر چھوڑے جانے والے نفسیاتی زخموں کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔“
پائیداری اور موسمیاتی تبدیلی کے ماہر طارق عیسیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری ادارے اور افراد اپنے کاربن فٹ پرنٹ کو کم کرنے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق چیلنجز میں اضافے کے ساتھ ایسے اقدامات جو میڈیا اور ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہیں، باخبر عوامی مکالمے کی تشکیل میں پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
اس اسکریننگ کے اسپانسر پریمیرو (Primero) تھے۔VRW ایک ایوارڈ یافتہ دستاویزی سیریز ہے جو وسطی اور جنوبی ایشیا کی ان موسمیاتی طور پر کمزور برادریوں کی آواز کو اجاگر کرتی ہے جو سیلاب، خشک سالی اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہ سیریز آغا خان یونیورسٹی، آغا خان ایجنسی فار ہیبی ٹیٹ، آغا خان فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی آف سینٹرل ایشیا کا مشترکہ اقدام ہے، جسے راس بیٹی، سٹکا فاؤنڈیشن، گلشن کسامعلی جیوا فیملی، پرنس صدرالدین آغا خان فنڈ فار دی انوائرمنٹ اور جنا بائی حسین علی شریف فیملی کی معاونت حاصل ہے۔
یہ منصوبہ اعلیٰ معیار کی ماحولیاتی صحافت اور دستاویزی کہانی سنانے کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی کے محاذ پر موجود کمزور آبادیوں کو درپیش ماحولیاتی بحرانوں کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی پیدا کرنے کے لیے وقف ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں