تمباکو کاشتکار خریداری کے بحران میں پھنس گئے، پی ٹی بی کی پالیسیوں کی ناکامی سے مارکیٹ میں بے یقینی مزید بڑھ گئی



خیبر پختونخوا کے اہم تمباکو پیدا کرنے والے اضلاع میں کاشتکار شدید مالی دباؤ کا شکار، بروقت خریداری نہ ہونے، مبینہ طور پر مقررہ قیمت سے کم نرخوں پر تمباکو کی خریداری اور کم از کم اشاریہ قیمت (MIP) کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے بحران کو مزید سنگین کر دیا

خیبر پختونخوا کے بڑے تمباکو پیدا کرنے والے اضلاع میں کاشتکاروں کو اپنی تیار فصل فروخت کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ خریداری میں تاخیر، مبینہ طور پر کم قیمت پر تمباکو کی خریداری اور کم از کم اشاریہ قیمت (Minimum Indicative Price) کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے تمباکو مارکیٹ کو مزید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے مقامی تمباکو کمپنیوں اور خریداروں کے ساتھ معاہدے کیے تھے، تاہم اس کے باوجود وہ اپنی تیار شدہ فصل فروخت نہیں کر پا رہے۔ ان کے مطابق متعدد مقامی خریداروں نے تاحال تمباکو کی خریداری شروع نہیں کی، جس کے باعث ان کے پاس فصل کا ذخیرہ موجود ہے جبکہ پیداواری اخراجات اور مالی ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس صورتحال کے باعث پاکستان ٹوبیکو بورڈ (PTB) بھی شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ کاشتکاروں کا الزام ہے کہ متعلقہ ریگولیٹری ادارہ خریداری کے قواعد پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کرانے اور کاشتکاروں کو ایسے طریقہ کار سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے جو ان کی سودے بازی کی پوزیشن کو کمزور کرتے ہیں۔

کاشتکاروں کے مطابق بعض مقامی خریدار اور ڈیلرز تقریباً 400 روپے فی کلوگرام کے حساب سے تمباکو خریدنے کی پیشکش کر رہے ہیں، جو مبینہ طور پر تقریباً 720 روپے فی کلوگرام کی کم از کم قیمت سے کہیں کم ہے۔ قیمتوں میں اس نمایاں فرق نے مالی مشکلات سے دوچار کاشتکاروں کو اپنی سرمایہ کاری کا کچھ حصہ واپس حاصل کرنے اور فوری اخراجات پورے کرنے کے لیے مجبوری میں کم نرخوں پر فصل فروخت کرنے پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب پی ٹی بی کی جانب سے بعض مقامی خریداری کمپنیوں اور ڈیلرز کے خلاف کارروائی کی گئی۔ رسمی خریداری کے ذرائع متاثر ہونے کے باعث کاشتکاروں کو خدشہ ہے کہ انہیں تیزی سے غیر رسمی یا پسِ پردہ لین دین کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، جہاں ان کی سودے بازی کی صلاحیت محدود ہوتی ہے اور وہ مڈل مین اور ڈیلرز کے استحصال کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

اس بحران کے اثرات وسیع تر تمباکو صنعت میں بھی بے یقینی پیدا کر رہے ہیں۔ دو بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے علاوہ بیشتر مقامی کمپنیوں اور خریداروں نے سیزن کے دوران متوقع پیمانے پر تاحال خریداری شروع نہیں کی۔ اس صورتحال نے اضافی تمباکو کی فصل کے مستقبل اور موجودہ خریداری کے نظام کی جانب سے کاشتکاروں کی پیدا کردہ فصل کو جذب کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں۔

غیر یقینی صورتحال میں ایک اور اہم عنصر رواں سیزن کے لیے کم از کم اشاریہ قیمت (MIP) کے حوالے سے واضح پالیسی کا فقدان ہے۔ واضح اور مؤثر طور پر نافذ کیے جانے والے قیمتوں کے فریم ورک کے بغیر کاشتکار ایسے مارکیٹ طریقہ کار کے سامنے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں جو قیمتوں کو اس سطح سے بھی نیچے لے جا سکتے ہیں جس کی انہیں ریگولیٹری نظام کے تحت توقع ہوتی ہے۔

تاہم کاشتکاروں کے لیے مسئلہ صرف انفرادی خریداروں کی جانب سے پیش کی جانے والی قیمت تک محدود نہیں۔ اصل تشویش یہ ہے کہ آیا ریگولیٹری نظام اس بات کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ خریداری کے معاہدے کرنے والی کمپنیاں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور تمباکو کی خریداری ایک شفاف، قابلِ عمل اور قابلِ نفاذ نظام کے تحت ہو۔

صورتحال رسمی تمباکو شعبے میں کام کرنے والے قانونی اور ذمہ دار کاروباری اداروں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ خریداری کے غیر مستقل طریقہ کار اور کمزور عملدرآمد سے مسابقت متاثر ہو سکتی ہے، غیر رسمی تجارت کو فروغ مل سکتا ہے اور ان کمپنیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق کاروبار کر رہی ہیں۔

کاشتکاروں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ اور دیگر متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کم از کم اشاریہ قیمت کے بارے میں واضح کیا جائے، ان کمپنیوں کی جانب سے خریداری بحال کی جائے جنہوں نے تمباکو خریدنے کے معاہدے کیے ہیں، اضافی پیداوار سے نمٹنے کے لیے قابلِ عمل طریقہ کار وضع کیا جائے اور مقررہ قیمت سے کم نرخوں پر مبینہ خریداری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

موجودہ بحران نے ریگولیٹری پالیسی اور زمینی سطح پر اس کے نفاذ کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا کو نمایاں کر دیا ہے۔ تمباکو کاشتکاروں کے لیے اب معاملہ محض کسی سرکاری اعلان تک محدود نہیں رہا؛ وہ ایسا خریداری نظام چاہتے ہیں جو عملی طور پر مؤثر ہو، ان کی فصل کی حقیقی قدر کا تحفظ کرے اور قانونی طور پر کیے گئے معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری یقینی بنائے۔

تیار تمباکو کے ذخائر میں مسلسل اضافے اور کاشتکاروں پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے باعث اب تمام نظریں پاکستان ٹوبیکو بورڈ پر ہیں کہ وہ خریداری کے عمل پر اعتماد بحال کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ اگر صورتحال کا بروقت ازالہ نہ کیا گیا تو کاشتکاروں کے نقصانات میں مزید اضافہ اور پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار تمباکو کی صنعت میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی