خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع ایک نجی اسکول کی چھت اچانک زمین بوس ہونے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 33 ہوگئی ہے، جبکہ دو خواتین ٹیچرز کی لاش بھی اسپتال منتقل کی گئی ہے۔ حادثے میں 50 سے زائد بچے شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔ سی سی پی او پشاور کا کہنا ہے کہ اسکول میں 110 بچے موجود تھے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ کے مطابق اب تک 33 بچوں اور دو خاتون ٹیچر کو مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا ہے، جبکہ ریسکیو حکام نے تصدیق کی ہے کہ موقع سے 50 سے زائد زخمی بچوں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں منتقل کیا جا چکا ہے۔
سی سی پی او پشاور میاں سعدی احمد کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت اسکول میں 110 بچے موجود تھے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ریکارڈ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے 20 زخمیوں کو علاج کے لیے لایا گیا تھا، جن میں سے 17 افراد کو ضروری طبی امداد کی فراہمی اور حالت تسلی بخش ہونے کے بعد گھروں کو رخصت کر دیا گیا ہے۔
اسپتال انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق باقی ماندہ زخمیوں میں مہوش، نتاشا اور عمران شامل ہیں جو اس وقت ایل آر ایچ میں طبی عملے کی خصوصی زیرِ نگرانی علاج معالجے کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔
دوسری جانب ریسکیو آپریشن کے بعد اسپتال لائی گئی لاشوں اور جاں بحق افراد کی فہرستیں مرتب کرنے کا عمل جاری ہے، جس میں متوفین کی شناخت اور عمر سے متعلق اہم تفصیلات درج کی گئی ہیں۔
ایل آر ایچ کی فہرست کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں حلیمہ بی بی، ثمرین بی بی، مدینہ، موسیٰ، کاشف نجیب، اعظم، عبدالبصیر، عظیم اللہ، زبیر خان، شاکر اللہ، حمدان، بصیر خان، حمید، ابرار، سنان خان، عثمان اور عزیر شامل ہیں۔
ریکارڈ میں ابراہیم نام کے دو، زکریا خان نام کے دو، اور ابوذر نام کے دو بچوں کا اندراج کیا گیا ہے، جبکہ فہرست میں محمد نام کے چار اندراجات موجود ہیں۔
اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی فہرست میں شامل پانچ ایسے بچے بھی درج ہیں جن کی فی الحال شناخت ممکن نہیں ہو سکی اور ان کے نام نامعلوم درج کیے گئے ہیں۔
اسپتال کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ان تمام غیر شناخت شدہ جاں بحق بچوں کی عمریں 8 سے 14 سال کے درمیان ہیں اور ان کی شناخت کا عمل رشتہ داروں کی آمد اور قانونی ضوابط کی تکمیل کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
میاں سعید احمد کے مطابق اسکول کے مالک کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اسکول مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
خیبر پختونخوا کے محکمہ تعلیم نے حادثے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے تشکیل دی گئی اس کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حادثے کے اسباب، عمارت کی ساخت اور انتظامی غفلت کا جائزہ لے کر 24 گھنٹوں کے اندر اپنی مفصل انکوائری رپورٹ پیش کرے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔
نجی اسکول میں پیش آنے والے اس حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور بچوں کے زخمی ہونے پر ملک کی اعلیٰ سیاسی و حکومتی قیادت نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق ہونے والے بچوں کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور حادثے کی اصل وجوہات کا فوری تعین کرنے کا حکم دیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی الگ الگ بیانات میں سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ وہ غمزدہ والدین کے دکھ کو شدت سے محسوس کرتی ہیں، جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے واقعے پر گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق طلبہ کے والدین کے ساتھ کامل ہمدردی ظاہر کی ہے۔
صوبائی مشیرِ اطلاعات ثمر ہارون بلور نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو زخمی بچوں کو بہترین اور بروقت طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ریسکیو اہلکاروں کی بروقت کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت ملبے تلے دبے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی ناقص ساخت اور دیکھ بھال کے حوالے سے یہ رواں سال ملک میں پیش آنے والا چوتھا بڑا اور المناک حادثہ ہے۔
اس سے قبل 21 فروری کو سیالکوٹ میں زیرِ تعمیر سرکاری گرلز ہائی اسکول کا شیڈ گرنے سے آٹھویں جماعت کی ایک طالبہ جاں بحق ہوئی تھی، جبکہ سات مئی کو ڈیرہ غازی خان میں نجی اسکول کے کلاس روم کی چھت گرنے سے چار طلبہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
اس کے علاوہ 30 جون کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے اور دو جولائی کو لاہور ہی کے علاقے باغبانپورہ میں زیرِ تعمیر اسکول کی عمارت کا حصہ گرنے سے ایک آٹھ سالہ بچہ جاں بحق ہوا تھا۔
ایک تبصرہ شائع کریں