ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کو سالانہ تقریباً ایک فیصد جی ڈی پی کا نقصان: او آئی سی سی ئی کی چوتھی کلائمٹ کانفرنس

کراچی:پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہرسال اپنی جی ڈی پی کا تقریباً ایک فیصد نقصان ہورہاہے۔ اس بات کا انکشاف اوورسیز انوسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI)کے زیرِ اہتمام منعقدہ چوتھی پاکستان کلائمٹ کانفرنس میں مقررین نے کیا۔ کانفرنس میں حکومتی نمائندوں، ترقیاتی شراکت داروں اور کاروباری رہنماؤں نے پالیسی فریم ورک سے عملی اور قابل سرمایہ کاری ماحولیاتی اقدامات کی جانب پیش رفت پر زوردیا۔

او آئی سی سی آئی کی چوتھی کلائمٹ کانفرنس میں وفاقی اور صوبائی پالیسی سازوں،بین الااقوامی اداروں، ماحولیاتی ماہرین، صحافیوں اور کارپوریٹ رہنماؤں نے شرکت کی، اوراس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ عالمی اخراج (global emissions) میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان کوشدید سیلابوں،ہیٹ ویوز اور معاشی عدم استحکام جیسے سنگین خطرات کا سامناکررہاہے۔


اس موقع پر وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے کہاکہ پاکستان تیزی سے شدّت اختیار کرتے ہوئے موسمیاتی بحران کی فرنٹ لائن پر ہے۔ انہوں نے کلائمٹ ریزیلینس کومحض کارپوریٹ سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک معاشی ضرورت کے طورپر پیش کرنے کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرنے پر او آئی سی سی آئی کی کاوشوں کو سراہا۔ مصدق ملک نے کہاکہ 53ڈگری سینٹی گریڈتک پہنچنے والی ریکارڈ گرمی، گزشتہ سال 40لاکھ افراد کی نقل مکانی،13000سے زائد گلیشیئرزکاپگھلاؤ اور جی ڈی پی کے تقریباً ایک فیصد کے برابر موسمیاتی نقصانات ایک وجودی چیلنج بن چکے ہیں۔ 

ماحولیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کو سالانہ تقریباً ایک فیصد جی ڈی پی کا نقصان: او آئی سی سی ئی کی چوتھی کلائمٹ کانفرنس



پاکستان کی حالیہ ماحولیاتی وابستگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ این ڈی سی 3.0کے تحت 2035تک اخراج میں 50فیصد کمی کا ہدف مقررکیاگیا ہے،تاہم منصفانہ منتقلی کیلئے 565.7ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جس کیلئے پائیدار، گرانٹ پر مبنی اور ماحولیاتی انصاف پر مبنی کلائمٹ فنانسنگ ناگزیر ہے۔ 

وفاقی وزیرِ برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کانفرنس سے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلیوں کو ایک وجودی خطرہ قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ قومی موافقت کے منصوبے، خوشحالی کے منصوبے اور گرین ٹیکسانومی جیسے کلیدی فریم ورک موجود ہیں تاہم اب توجہ دستیاب مالی وسائل کو متحرک کرنے اور قابل سرمایہ کاری منصوبوں کی تیاری پر مرکوز ہونی چاہیے۔ انہوں نے نجی شعبے کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ نجی شعبہ سرمایہ کے ساتھ ساتھ جدّت اور تکنیکی مہارت فراہم کرسکتاہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP)کے ایشیا و پیسفک ریجن میں پائیدار فنانس کے ریجنل لیڈچونگ گوانگ یو (چارلس) نے کہاکہ بنیادی چیلنج اب سرمائے کی کمی نہیں بلکہ بکھرے ہوئے نظام ہیں۔ انہوں نے بلینڈڈ فنانس، رسک شیئرنگ میکانزم اور پروگرامیٹک سرمایہ کاری ماڈلز کی ضرورت پر زوردیا۔

اس موقع پر او آئی سی سی آئی کے صدر یوسف حسین نے کہاکہ حکومتِ پاکستان موسمیاتی ایجنڈے پرٹھوس پیش رفت کررہی ہے۔ انہوں نے  ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایڈاپٹیشن فنانس، ورلڈ بینک کے ساتھ20ارب ڈالر کے 10سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک اور پاکستان کے پہلے گرین پانڈا بونڈ کے اجراء کی تیاری کا حوالہ دیتے ہوئے کیاکہ یہ اقدامات پائیدار فنانس کے حوالے سے قومی عزم کا واضح ثبوت ہیں۔


اس موقع پر او آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر جیسن آوانسینا نے کہاکہ کانفرنس کا مقصد محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی معاشی نتائج حاصل کرناتھا۔ انہوں نے کہاکہ COP30کے بعد کی پیش رفت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے ہماری بات چیت توانائی نظام کی بہتری، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، بلیو اکانومی کے مواقع، ساحلی تحفظ، سمندری پائیداری اور آرٹیفشل انٹیلی جنس کے ذریعے موسمیاتی پیشن گوئی اور آفات سے ہونے والے نقصانات میں کمی پر مرکوز رہی۔ 

اس موقع پر اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ہیڈ آف کوریج ریحان شیخ نے کہاکہ پاکستان کیلئے موسمیاتی ریزیلنس پیدا کرنا، پائیدار فنانس کو متحرک کرنا اور پبلک پرائیویٹ شراکت داری کو مضبوط بنانا طویل المدّتی مسابقتی صلاحیت کے حصول کیلئے نہایت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ او آئی سی سی آئی کلائمٹ کانفرنس جیسے پلیٹ فارمزکیلئے اسٹینڈرڈرچارٹرڈ پاکستان کی سپورٹ موسمیاتی ایجنڈے کو ارادوں سے عملی اقدامات میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

کانفرنس میں یو این ڈی پی، ایشین ڈیولپمنٹ بینک، انٹر نیشنل فنانس کارپوریشن، ورلڈوائلڈ لائف فنڈ پاکستان، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج، انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی پنجاب، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، سندھ انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی،سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ اور یونی لیور، نیسٹلے، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور بیکو گلوبل سمیت ممتاز کاروباری اداروں کے مقامی و بین الاقوامی نمائندوں نے شرکت کی۔

کانفرنس کے اختتام پر دوسرے او آئی سی سی آئی کلائمٹ ایکسی لینس ایوارڈزکا انعقاد کیاگیا اور قابلِ تجدید توانائی، سرکلر اکانومی،آبی وسائل کے بہتر انتظام اور جامع ماحولیاتی اقدامات میں نمایاں خدمات دینے والے اداروں کو ایوارڈ ز سے نوازا گیا۔ کلائمیٹ ایکسلینس(مین ایوارڈ)نیسلے پاکستان نے حاصل کیا۔ کلائمٹ ایکشن ایوارڈ ڈاؤلنس، رنر اپ یونی لیوراوراسمال کمپنیز لوریل پاکستان نے حاصل کیا۔ واٹر اسٹیورشپ ایوارڈپاکستان ٹوبیکو کمپنی،رنر اپ ریکٹ اور اسمال کمپنیزلوٹے کیمیکلزنے حاصل کیا۔ قابلِ تجدید توانائی و تحفظ ایوارڈ اٹلس ہونڈا اور مارٹن ڈاؤ گروپ، رنر اپ میٹرواور اسمال کمپنیز کے ایس بی پمپس نے حاصل کیا۔ سرکلر اکانومی ایوارڈ پیپسی کو پاکستان، رنراپ ٹیٹرا پیک اور اسمال کمپنیز اینگرو پاورجن تھرنے حاصل کیا۔ حیاتیاتی تنوع فروغ ایوارڈ اٹک ریفائنری رنراپ اینگرو پولیمراور اسمال کمپنیز اینگرو ووپیک نے حاصل کیا۔ سسٹین ایبل فنانس ایوارڈ موبی لنک مائیکروفنانس بینک اوررنراپ ایوارڈ بینک الفلاح نے حاصل کیا۔


کانفرنس میں مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ماحولیاتی خطرات کے باعث،ماحولیاتی پالیسی اب محض ایک ضمنی موضوع نہیں بلکہ اسے پاکستان کی معاشی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی اور قومی ترقیاتی ایجنڈے کا مرکزی جزو بنانا ناگزیر ہے۔

0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی