موبی لنک بینک کا خواتین کی معاشی خود مختاری کی جانب بڑا قدم: 18 اسٹارٹ اپس گریجویٹ

گرین پلاسٹکس نے آلو کے چھلکے سے ری سائیکل ہونے کے قابل تھیلے بنانے پہ 10لاکھ کی ابتدائی فنڈنگ اوربہترین اسٹارٹ اپ کا ایوارڈ حاصل کیا


اسلام آباد ؛  پاکستان میں صف اول کے ڈیجیٹل مائیکرو فنانس بینک، موبی لنک بینک نے تنوع، مساوات اور شمولیت (DEI) کے میدان میں اپنے قائدانہ کردار کو مزید مستحکم بنانے کے ساتھ اپنے ویمن انسپائریشنل نیٹ ورک (WIN) انکیوبیٹر پروگرام کے تحت 18 خواتین کی زیر قیادت قائم اسٹارٹ اپس کی کامیابی سے گریجویشن مکمل کرادی ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اقدام ہے جس کا مقصد کاروباری خواتین میں معاشی صلاحیتیں پروان چڑھانے اور کاروبار میں وسعت لانے سے متعلق مواقع فراہم کرنا ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ گریجویشن تقریب میں وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وجیہہ قمر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر سرکاری و نجی شعبوں سے متعلق اسٹیک ہولڈرز کے نمایاں افراد بھی موجود تھے۔

اس پروگرام کے ذریعے شرکاء کو ڈیجیٹل کاروبار، مالی آگاہی اور کاروبار کو وسعت دینے سے متعلق عملی مہارتیں سکھائی گئیں، تاکہ وہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کاروبار قائم کر سکیں۔ تقریب کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے اسٹارٹ اپس کو ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔




تقریب میں گرین پلاسٹکس (Green Plastics) نے بہترین اسٹارٹ اپ کا ایوارڈ حاصل کیا، جسے آلو کے چھلکوں سے ری سائیکل کئے جانے کے قابل بیگز بنانے کے منفرد آئیڈیا پر 10 لاکھ روپے کی ابتدائی فنڈنگ دی گئی۔ اسی طرح ایکوجین (Ecogen) اور ایکوفلو (EcoFlow) کو انوویشن چیلنج کا فاتح قرار دیا گیا، ان دونوں اسٹارٹ اپس کو خوراک کے ضیاع کے انتظام اور پسماندہ علاقوں میں کم لاگت سے خواتین کیلئے خصوصی حفظان صحت سے متعلق متاثرکن کام پر 5 لاکھ روپے فی کس سیڈ فنڈنگ فراہم کی گئی۔

اب تک مجموعی طور پر 31 اسٹارٹ اپس کی گریجویشن کے ساتھ ساتھ موبی لنک بینک خواتین کی زیر قیادت کاروبار کو فروغ دینے کے لیے انکیوبیشن، رہنمائی اور مالی و ڈیجیٹل سہولیات کی فراہمی میں نمایاں مثال قائم کر رہا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، وجیہہ قمر نے کہا، ''موبی لنک بینک کے WIN انکیوبیٹر کے تحت 18 خواتین اسٹارٹ اپس کی گریجویشن اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خواتین کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کس قدر مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ ایسے اقدامات خواتین کو ضروری کاروباری اور ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک زیادہ مضبوط معیشت کی بھی بنیاد رکھتے ہیں جس میں تمام طبقات کی شمولیت ہوتی ہے۔ یہ دیکھ کر حوصلہ ملتا ہے کہ یہ منصوبے پائیداری اور سماجی مساوات جیسے اہم مسائل پر سنجیدگی سے کام کر رہے ہیں۔ ان مواقع کو مزید وسعت دینے اور پاکستان بھر میں زیادہ سے زیادہ خواتین کو جدت اور معاشی ترقی کی قیادت کا حامل بنانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل تعاون نہایت اہم ہے۔''

موبی لنک بینک کے صدر اور سی ای او، حارث محمود چوہدری نے کہا،  '' موبی لنک بینک محض مالیاتی اور ڈیجیٹل رسائی فراہم کرنے سے آگے بڑھ کر حقیقی اثرات مرتب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ویمن انسپائر یشنل نیٹ ورک انکیوبیٹر کاروباری خواتین کی ایک نئی نسل کو با اختیار بنا رہا ہے، جو نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں بلکہ ان کی قیادت کر رہی ہیں۔ ان کی کامیابی ایک مستحکم، شمولیتی اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ پاکستان کی بنیاد بنے گی۔''

اس پروگرام میں شامل سٹارٹ اپس نے ماحولیاتی پائیداری کے فروغ اور سماجی مسائل سے نمٹنے کے لئے خصوصی مصنوعات متعارف کروائیں، جن میں پلاسٹک ویسٹ، خوراک کے ضیاع اور حیض سے متعلق معلومات جیسے اہم مسائل شامل تھے۔ یہ پہلو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کاروباری خواتین ماحولیاتی شعور اور سماجی ذمہ داری کو جدت کے ساتھ اپنے کاروبار میں فروغ دے رہی ہیں۔ یہ تمام کاوشیں بینک کی ESG پالیسی سے ہم آہنگ ہیں۔

موبی لنک بینک کی جانب سے WIN جیسے پروگرامز میں مسلسل سرمایہ کاری اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ بینک ایک ایسی جامع، جدید اور مستحکم معیشت کا خواہاں ہے جہاں خواتین اپنی شرکت کے ساتھ ساتھ اس تبدیلی کے عمل میں بھی قائدانہ کردار کی حامل ہوں۔

0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی