کراچی ؛ اسپاٹیفائی اپنے ریڈار پاکستان پروگرام کے ذریعے پاکستان کے ابھرتے ہوئے باصلاحیت گلوکاروں کو مسلسل سامنے لا رہا ہے۔ اسکے ریڈار پاکستان کے تحت رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے لاہور سے تعلق رکھنے والے مرتضیٰ قزلباش کو نمایاں آرٹسٹ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ پاکستان کی بدلتی ہوئی میوزک انڈسٹری میں اپنی منفرد پہچان بنانے والے مرتضیٰ قزلباش اُن نئی آوازوں میں شامل ہیں جو روایتی ثقافت کا جدید موسیقی سے امتزاج سامنے لارہے ہیں۔
ان کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت واضح طور پر نظر آ رہی ہے، جہاں اپریل کے آغاز سے اب تک ان کے سامعین کی تعداد میں 130 فیصد سے زائد جبکہ اسٹریمز میں 160 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو پاکستان سمیت دنیا بھر کے سامعین کے ساتھ انکے مضبوط تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔
مرتضیٰ قزلباش کی موسیقی لاہور کی ثقافت، یادوں اور کہانیوں بالخصوص ان کے آبائی گھر مبارک حویلی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اسی تعلق کو اجاگر کرنے کے لیے اسپاٹیفائی نے انہیں ایک خصوصی مختصر ڈاکومنٹری سیریز میں شامل کیا ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ لاہور اور اس کی تاریخ کس طرح ان کے تخلیقی اظہار کو سامنے لارہی ہے۔
ان کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت واضح طور پر نظر آ رہی ہے، جہاں اپریل کے آغاز سے اب تک ان کے سامعین کی تعداد میں 130 فیصد سے زائد جبکہ اسٹریمز میں 160 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو پاکستان سمیت دنیا بھر کے سامعین کے ساتھ انکے مضبوط تعلق کی نشاندہی کرتا ہے۔
مرتضیٰ قزلباش کی موسیقی لاہور کی ثقافت، یادوں اور کہانیوں بالخصوص ان کے آبائی گھر مبارک حویلی سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اسی تعلق کو اجاگر کرنے کے لیے اسپاٹیفائی نے انہیں ایک خصوصی مختصر ڈاکومنٹری سیریز میں شامل کیا ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ لاہور اور اس کی تاریخ کس طرح ان کے تخلیقی اظہار کو سامنے لارہی ہے۔
ان کے گانے ''ہم'' اور ''بھول'' تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں، جہاں اپریل کے آغاز سے اب تک انکی اسٹریمز میں بالترتیب 130 فیصد اور 80 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سمر جعفری کے ساتھ ان کا تازہ اشتراک ''ہر بار'' بھی شاندار کامیابی حاصل کر رہا ہے اور اس وقت اسپاٹیفائی کے ''ٹاپ 50۔ پاکستان'' چارٹ میں تیسرے نمبر پر موجود ہے۔ ان کی موسیقی پاکستان سے باہر بھی مقبولیت حاصل کر رہی ہے، جبکہ بنگلہ دیش، امریکا اور برطانیہ ان کی نمایاں اسٹریمنگ مارکیٹس میں شامل ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کے 50 فیصد سے زیادہ سامعین کی عمر 18 سے 24 سال کے درمیان ہے، جس سے نوجوانوں میں ان کی بھرپور مقبولیت ظاہر ہوتی ہے۔
اسپاٹیفائی پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی آرٹسٹ اینڈ لیبل پارٹنرشپس منیجر، رطابہ یعقوب نے کہا، '' مرتضیٰ اپنی موسیقی میں لاہور کی ثقافت، شاعری اور جدید اندازِ بیان کو خوبصورتی سے پیش کر رہے ہیں، اور یہی بات انہیں پاکستان کی ابھرتی ہوئی موسیقی کی نمایاں آوازوں میں شامل کرتی ہے۔ ریڈار پاکستان کے ذریعے ہمیں ایسے گلوکاروں کی حوصلہ افزائی جاری رکھنے پر فخر ہے جو ملک میں موسیقی اور ثقافت کے مستقبل کو نئی سمت دے رہے ہیں۔''
اپنے ریڈار پاکستان کے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مرتضیٰ قزلباش نے کہا، ''اس سہ ماہی میں اسپاٹیفائی کے ریڈار پاکستان آرٹسٹ کے طور پر منتخب ہونا میرے لیے ناقابلِ یقین احساس ہے۔ یہ میرے موسیقی کے سفر کا ایک بہت بڑا سنگِ میل ہے، اور اس پروگرام کے ذریعے اپنی کہانیوں کو دنیا تک پہنچانا میرے لیے انتہائی خاص تجربہ رہا ہے۔''
مرتضیٰ قزلباش کا کام اپنی شاعرانہ گہرائی اور ہمہ گیر انداز کے باعث قابل ذکر طور پر سامنے آتا ہے، جس کی بنیاد اردو زبان اور اس کی کلاسیکی روایات سے گہری وابستگی ہے۔ ان کے گانے دو لاکھ سے زائد صارفین کی بنائی گئی پلے لسٹس میں شامل کئے جا چکے ہیں، جبکہ انہیں (ہاٹ ہٹس پاکستان)"Hot Hits Pakistan"اور(پکا ہٹ ہے)"Pakka Hit Hai"جیسی نمایاں ایڈیٹوریل پلے لسٹس میں بھی جگہ ملی ہے۔
ریڈار پروگرام کے ذریعے اسپاٹیفائی نے ابھرتے ہوئے گلوکاروں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور ان کی ترقی کے مواقع فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ حسن رحیم، شائے گل اور سمر جعفری جیسے نمایاں ریڈار پاکستان آرٹسٹس کے بعد، مرتضیٰ قزلباش اب اُن نئی آوازوں میں شامل ہو رہے ہیں جو پاکستان کی موسیقی کے مستقبل کو نئی شکل دے رہی ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں