ایک دوست دوسرے سے کہہ رہا تھا:
”یار وہ اپنے دوست وکیل احمد خان تھے نا... وہ جنھیں ہر چیز کی تہ تک پہنچنے کا شوق تھا۔“
دوسرے نے چونک کر پوچھا:
”کیا ہوا انھیں۔“
پہلے نے جواب دیا:
”وہ ڈوب کر مر گئے؟“
😂😂😂
ایک صحافی دوسرے سے کہہ رہا تھا:
”فلاں صحافی بک گیا، فلاں نے اتنی رقم لے کر اپنا قلم بیچ دیا، اس نے صحافت کے مقدس پیشے کو بدنام کیا ہے۔ غرض ہر صحافی اور ادیب بک گیا، لیکن میں آج تک نہیں بکا۔“
دوسرے نے یہ ساری بات سن کر کہا:
”بھائی تم جس اخبار میں لکھتے ہو، وہ اخبار کبھی فروخت نہیں ہوا، پھر تم کیسے فروخت ہوسکتے ہو۔“
😂😂😂
احمد: چچا رمضان! کہاں جارہے ہیں۔
رمضان: جمعہ پڑھنے۔
احمد: لیکن آج تو بدھ ہے۔
رمضان:بیٹا احمد جمعے کے دن مسجد میں رش بہت تھا، میں پڑھ نہیں سکا تھا۔ میں نے سوچا، آج پڑھ لوں۔
👇👇
#لطیف
#لطیفے
#لطیفے_ہی_لطیفے
#لطیفے_مزاحیہ
#لطیفے_اردو_میں
#لطیفے_گندے
#لطیفے_مزاحیہ_اردو
#لطیفے_کی_دنیا
#لطیفے_مزاحیہ_کتاب
#لطیفے_مزاحیہ_پشتو
#لطیفے_پشتو

ایک تبصرہ شائع کریں