چاند تاروں میں تُو ، مرغزاروں میں تُو،اے خدایا !
کس نے تیری حقیقت کو پایا.....!!!
تُونے پتھر میں کیڑے کو پالا ، خشک مٹی سے سبزہ نکالا
سارے جگ میں کہیں تیرا ثانی نہیں ،اے خدایا !
کس نے تیری حقیقت کو پایا.....!!!
یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہے ، طائروں میں بھی تیری ثناء ہے
دم میں تیرا بھروں، سجدہ تیرا کروں ، اے خدایا !
کس نے تیری حقیقت کو پایا.....!!!
تیرے جلوے عیاں ،تو نہاں ہے ، تیری ہستی کا مظہر جہاں ہے
بحرو بر میں ہے تو، خشک و تر میں ہے تو، اے خدایا !
کس نے تیری حقیقت کو پایا.....!!!
چاند تاروں میں تُو ، مرغزاروں میں تُو،اے خدایا !
کس نے تیری حقیقت کو پایا.....!!!

ایک تبصرہ شائع کریں