موسمیاتی دباؤ میں اضافے، پے در پے سیلاب، شدید ہیٹ ویوز، خراب فضائی معیار، پانی کی قلت اور غذائی عدم تحفظ جیسے مسائل

زونگ کی بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس 2026 کے ساتھ شراکت داری 


اسلام آباد : ۔پاکستان میں ٹیکنالوجی سروسز فراہمی کے معروف ادارے زونگ نے‘‘ بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس 2026 ’’ کے ساتھ شراکت داری کی۔اس دو روزہ پلیٹ فارم میں پالیسی سازوں، کارپوریٹ لیڈرز، ترقیاتی اداروں اور ماحولیاتی ماہرین نے یکجا ہو کرپاکستان کو درپیش موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات پر گفتگو کی ۔

ملک بھر میں موسمیاتی دباؤ میں اضافے، بار بار آنے والے سیلاب، شدید ہیٹ ویوز، خراب فضائی معیار، پانی کی قلت اور غذائی عدم تحفظ جیسے مسائل کے پیش نظر آگاہی سے آگے بڑھ کر مربوط اور بڑے پیمانے پر عملی اقدامات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں کم ترین حصہ ڈالنے کے باوجود پاکستان دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جس سے مقامی تقاضوں کے مطابق اور عالمی وژن سے ہم آہنگ موسمیاتی حکمت عملیوں کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔

زونگ موسمیاتی اقدامات کو فقط ماحولیاتی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ ایک اہم ضرورت سمجھتا ہے جو آپریشنل کارکردگی، بہتر گورننس اور طویل المدتی استحکام کو فروغ دیتی ہیں۔ اس قومی پلیٹ فارم کے ساتھ شراکت داری سے زونگ نے مختلف شعبوں کے مابین تعاون کے ذریعے پاکستان کے ماحولیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مثبت کردار ادا کیاہے۔ زونگ کا ماننا ہے، نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجیز کو ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔زونگ کو گرین اور کم کاربن آپریشنز کی جانب منتقلی میں فعال کردار ادا کرنے پر فخر ہے۔




کانفرنس میں اہم شراکت داروں نے موسمیاتی خطرات، معاشی استحکام اور قومی ترقی کے باہمی تعلق کا جائزہ لیا۔کانفرنس کی ایک اہم سرگرمی ‘‘سی ایس آر سے کلائمیٹ لیڈرشپ تک -97 پاکستان کے نجی شعبے کو موسمیاتی اقدامات کے لیے متحرک کرنا’’کے عنوان سے پینل ڈسکشن تھی۔ اس سیشن میں زونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نیٹ ورک آپریشنز نجیب اللہ خان سمیت مختلف صنعتوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔ 

پینل سے خطاب کرتے ہوئے نجیب اللہ خان نے موسمیاتی استحکام کے فروغ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے اہم کردار پر زور دیا اور کہاکہ،‘‘موسمیاتی اقدامات ہمارے بزنس کی بنیادی ترجیح ہیں۔ ایک اہم کمیونی کیشنز اور ٹیکنالوجی سروس ادارے کے طور پر ہماری توجہ، توانائی بچانے والے ایسے انفراسٹرکچر کی تعمیر پر ہے جو بڑھتے ہوئے موسمیاتی دباؤ کا مقابلہ کر سکے اورکسی بھی سانحہ کی صورت میں بھی سروسز کے تسلسل کو یقینی بنائے۔ قابلِ تجدید توانائی، ذہین نیٹ ورک سسٹمز اور آپریشنل استحکام میں سرمایہ کاری کے ذریعے ہم اپنے ماحولیاتی اثرات کم کر رہے ہیں جبکہ کمیونٹیز، اداروں اور ہنگامی امدادی سرگرمیوں کی معاونت کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ بریتھ پاکستان جیسے پلیٹ فارمز عوامی و نجی شعبے کی کوششوں کو قابلِ توسیع اور طویل المدتی موسمیاتی حل کی جانب ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔’’

زونگ کا استحکام سے متعلق عزم اس کی انفراسٹرکچر حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔ اب تک کمپنی کے 85 فیصد نیٹ ورک سائٹس کو سولر اور لیتھیم آئن بیٹریز(Lithim ion batteries) پر منتقل کیا جا چکا ہے، جس سے سالانہ 1.43 million kwh توانائی پیدا ہو رہی ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع اورانٹیلی جنٹ مانیٹرنگ سسٹم کی جانب منتقلی موسمیاتی آفات میں نہایت مؤثر ثابت ہوئی، خصوصاً سندھ اور بلوچستان میں سیلاب کے دوران بلا تعطل رابطہ کی سہولت ممکن بنائی گئی۔ ہنگامی امدادکے اداروں اور متاثرین کے لیے بااعتماد مواصلاتی سہولیات فراہمی سے زونگ نے قومی بحرانوں کے دوران ایک اہم شراکت دار کے طور پر خود کو منوایا ہے۔

انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ، زونگ ماحولیاتی بحالی اور پائیدار آپریشنز میں بھی اپناکردار ادا کر رہا ہے۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور PakEPA کے اشتراک سے زونگ اسلام آباد میں ساڑھے تین ہزارمقامی درخت لگا چکا ہے جبکہ کاربن کے اخراج میں کمی کی مسلسل کوششیں بھی اس کے آپریشنز کا اہم حصہ ہیں۔ مزید برآں، لچکدار ورک پریکٹسز کے نفاذ سے ماہانہ 22 ہزار کلو واٹ آور سے زائد توانائی کی بچت ممکن ہوئی ہے جو کم کاربن والے مستقبل کے طویل المدتی وژن سے ہم آہنگ ہے۔ زونگ اپنے بزنس کے ہر شعبے میں پائیداری کو مرکزی حیثیت دینے کے عزم پر قائم ہے تاکہ ٹیکنالوجی کی ترقی نہ صرف معاشی نمو بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور قومی استحکام کو بھی فروغ دے سکے۔

0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی