صابری سسٹرز اسپاٹیفائی کے ایکول پاکستان کی ایمبیسڈرز منتخب، نیویارک کے مشہور ٹائمز اسکوائر پر جلوہ گر

کراچی، اسپاٹیفائی کے ایکول پاکستان پروگرام کے تحت صابری سسٹرز رواں سال کی دوسری سہ ماہی کی ایمبسیڈرز منتخب ہوئیں اور اس سلسلے میں 17 جون کو نیویارک سٹی کے مشہور ٹائمز اسکوائر میں اسپاٹیفائی کے نمایاں ڈیجیٹل بل بورڈ پر جلوہ گر ہوئیں۔ اس طرح وہ ایکول پروگرام کے تحت عالمی سطح پر متعارف کرائی جانے والی پاکستانی خواتین گلوکاروں کی بڑھتی ہوئی فہرست کا حصہ بن گئیں۔ثمن اور انعمتا صابری پر مشتمل یہ مقبول جوڑی ایک عظیم موسیقی ورثے کی امین ہے اور ایسے شعبے میں اپنی شناخت بنا رہی ہے جہاں روایتی طور پر مرد گلوکاروں کی اکثریت ہے۔ صابری سسٹرز روحانی اور صوفیانہ موسیقی کی روایات کو جدید موسیقی کے انداز سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک منفرد گلوکارانہ شناخت قائم کر رہی ہیں۔
 
مرحوم امجد صابری کی بھتیجیاں اور عظیم صابری برادران کے خاندان سے تعلق رکھنے والی صابری سسٹرز پہلی بار 2017 میں اس وقت خبروں کی زینت بنیں جب انہوں نے اپنے مرحوم چچا کی پہلی برسی کے موقع پر فارسی اور پنجابی زبانوں میں ایک منقبت پیش کی۔ بعد ازاں عاصم اظہر کے ساتھ ان کا مقبول او ایس ٹی ''میری زندگی ہے تو'' اور ''مغروں لا'' جیسے وائرل گانے ان کی شہرت کا سبب بنے اور وہ نئے انداز سے صوفی و قوالی میوزک کو متعارف کرانے والے گلوکاروں کے طور پر سامنے آئیں۔ 

ان کا ٹریک ''میری زندگی ہے تو'' نے سامعین میں غیرمعمولی مقبولیت حاصل کی۔ یہ ٹریک اسپاٹیفائی کی ٹاپ 50۔پاکستان پلے لسٹ پر مسلسل 30 ہفتوں سے پاکستانی میوزک چارٹس میں موجود رہا۔ اس گیت کو اسپاٹیفائی کی متعدد مقبول پلے لسٹس بشمول ایکول، پکا ہٹ ہے اور ہاٹ ہٹس پاکستان میں بھی جگہ ملی اور یہ صابری سسٹرز کا اب تک کا سب سے زیادہ سنا جانے والا گیت ہے۔ اسپاٹیفائی کے اعداد و شمار کے مطابق صابری سسٹرز کی جوڑی نے عالمی سطح پر اپنی پہچان بنالی ہے اور امریکہ، برطانیہ اور بنگلہ دیش میں انکے سب سے زیادہ سامعین ہیں۔ 




عام طور پر صوفی موسیقی اور قوالی کو بڑی عمر کے سامعین زیادہ پسند کرتے تھے، تاہم اسپاٹیفائی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان سامعین کے ساتھ بھی انکا تعلق بڑھ رہا ہے۔ صابری سسٹرز کے سامعین میں 18 سے 24 سال عمر کے نوجوانوں کا تناسب نصف ہے جس سے اس جوڑی کی نئی نسل میں موسیقی کی مضبوط روایات کو متعارف کرانے کی صلاحیت اجاگر ہوتی ہے۔ 

صابری سسٹرز نے ایکول پاکستان کی ایمبیسڈرز منتخب ہونے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ''اسپاٹیفائی کا ایکول پاکستان جیسا پلیٹ فارم پاکستانی گلوکاروں کو عالمی سطح پر شناخت دلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہماری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ ہمیں بھی ان ممتاز گلوکاروں کی فہرست میں شامل ہونے کا موقع ملے جو ماضی میں ایکول ایمبیسیڈر منتخب کئے جا چکے ہیں۔ آج یہ اعزاز حاصل کرنا ہمارے لیے ناقابلِ یقین حد تک خوشی اور فخر کا باعث ہے، خاص طور پر یہ جانتے ہوئے کہ عابدہ پروین اور صنم ماروی جیسی عظیم شخصیات بھی پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔''
 
اسپاٹیفائی کی آرٹسٹس اینڈ لیبل پارٹنرشپس منیجر برائے پاکستان اور متحدہ عرب امارات، رطابہ یعقوب نے کہا، "ایکول پاکستان کا مقصد ایسے گلوکاروں کو سامنے لانا ہے جو پاکستان کے موسیقی منظرنامے کے تنوع اور تخلیقی صلاحیتوں کی حقیقی عکاسی کرتے ہیں، قوالی کی صنف میں عام طور پر مرد گلوکاروں کا غلبہ رہا ہے، صابری سسٹرز ان چند خواتین میں شامل ہیں جو اس صنف میں اپنی منفرد شناخت بنا رہی ہیں۔ وہ ایک جانب اس صنف کی گہری روایات اور ورثے کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور دوسری جانب اسے نئی جہتیں بھی دے رہی ہیں۔ ان کی یہ پذیرائی نہ صرف ان کے انفراد ی گلوکاری کے سفر کا اعتراف ہے بلکہ پاکستانی موسیقی کے بدلتے ہوئے انداز کی بھی ستائش ہے۔"
 
ایکول پاکستان کے ذریعے اسپاٹیفائی خواتین گلوکاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کی آواز کو مزید وسعت دینے کے لیے اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ وہ نئے سامعین تک پہنچ سکیں اور مقامی و عالمی سطح پر زیادہ نمایاں مقام حاصل کر سکیں۔صابری سسٹرز کا ایکول پاکستان کی نئی ایمبیسڈرز کے طور پر انتخاب اس عزم کا اظہار ہے کہ پاکستانی ٹیلنٹ اور متنوع آوازوں کو دنیا بھر میں سامنے لایا جارہا ہے۔ پاکستان کی باصلاحیت اور متاثر کن خواتین گلوکاروں کی موسیقی سننے کے لیے سامعین اسپاٹیفائی پر ایکول پاکستان پلے لسٹ وزٹ کر سکتے ہیں۔

0/کمنٹس:

جدید تر اس سے پرانی