اسلام آباد: پاکستان کے نمایاں ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک موبی لنک بینک اور پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی ( ایس ڈی پی آئی) نے پاکستان میں خواتین کاشتکاروں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کو اجاگر کرنے کیلئے نئی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خواتین کاشتکار موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے قرضوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں جبکہ اکثریت کو رسمی بینکاری تک رسائی حاصل نہیں ہے ۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ خواتین کاشتکاروں کے ذریعہ معاش کے تحفظ ،نقصانات کے بعد بحالی اور مستقبل کے موسمیاتی چیلنجز کے مقابلے میں زیادہ مضبوطی پیدا کر نے کیلئے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ جامع مالیاتی پالیسیوں کا فوری نفاذ ناگزیر ہے۔
''صنفی حساسیت پر مبنی ماحولیاتی فنانسنگ : پاکستان میں زرعی شعبہ سے وابستہ خواتین کے لیے تشخیصی مطالعہ اور پیداواری فریم ورک''(Designing Gender-Responsive Climate Finance: A Diagnostic Study and Product Framework for Women Farmers in Pakistan) کے عنوان سے کیے گئے تحقیقی مطالعہ میں پنجاب اور سندھ کے 8 اضلاع میں کی گئی عملی تحقیق میں زرعی شعبہ میں خواتین کی شمولیت، ان کو درپیش ماحولیاتی خطرات اور ان کی مالیاتی خدمات تک رسائی میں پائے جانے والے اہم فرق کو اجاگر کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کا اجرا اسلام آباد میں ایس ڈی پی آئی اور موبی لنک بینک کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ اعلیٰ سطحی پالیسی ڈائیلا گ کے دوران کیا گیا جس میں حکومتی نمائندوں، مالیاتی ریگولیٹرز، بینک، ترقیاتی مالیاتی ادارے اور ترقیاتی شراکت داروں نے شرکت کی اور تحقیق کے نتائج کو خواتین کسانوں کیلئے عملی مالیاتی حل میں تبدیل کرنے کا جائزہ لیا۔
وزیرخزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے تحقیقاتی رپورٹ کے اجرا کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور خواتین کاشتکاروں کو پاکستان کی زرعی معیشت کی ترقی کا محرک تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تحقیق میں دی گئیں پالیسی سفارشات پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ انہوں نے مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ بالخصوص مالی سہولت تک رسائی ، ضمانت اورموسیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرکے خواتین کی ضروریات پر مبنی مالیاتی سہولیات اور مصنوعات تیار کریں۔ پاشا نے ان اصلاحات کے فروغ میں ایس ڈی پی آئی کے مسلسل قائدانہ کردار اور خواتین کی مالی شمولیت کے لیے موبی لنک بینک کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے، خواتین کسانوں کی ضروریات کے مطابق مالیاتی حل پر مزید توجہ دینے پر زور دیا۔
موبی لنک بینک کی ہیڈ آف اسٹریٹجی، سسٹین ایبیلیٹی اینڈ ویمن فنانشل سروسز خولہ شعیب کا کہنا تھا کہ زرعی شعبہ سے وابستہ خواتین کی ترقی کیلئے بینک واضح اور ٹھوس عزم رکھتا ہے۔ مجموعی گراس لون پورٹ فولیو میں زراعت کا حصہ تقریبا 60 فیصد ہے جس میں خواتین کا تناسب 21 فیصد سے زائد ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی کی تحقیق نے خواتین کاشتکاروں کو درپیش اہم مالیاتی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں حائل رکاوٹوں سے متعلق موجودہ تجزیہ کی نہ صرف تصدیق کی ہے بلکہ رپورٹ سے مزید معلومات حاصل ہوئی ہیں جنہوں نے موجودہ پورٹ فولیو کو مستحکم بنانے اور خواتین کسانوں کے لیے نئی صنفی حساسیت پر مبنی مالیاتی مصنوعات کی تیاری میں مدد فراہم کی ہے۔
خواتین کاشتکاروں سے کئے گئے سروے سے پتہ چلا کہ دس میں سے نو سے بھی زائدخواتین کاشتکاروں کو گزشتہ پانچ سال کے دوران شدید موسمیاتی حالات بشمول،شدید گرمی، سیلاب، موسلادھار بارش یا خشک سالی جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ 80فیصد سے زائد خواتین کاشتکاروں نے فصلوں کے نقصانات یا کاشتکاری پر منفی اثرات کے بارے میں بتایا۔ہر ضلع میں مشکل وقت سے نمٹنے کے لیے قرض کا حصول سب سے زیادہ استعمال ہونے والے طریقوں میں پہلے یا دوسرے نمبر پر تھا۔خوشاب میں مشکلات سے نمٹنے کیلئے ہر خاتون نے قرض لیا جبکہ نصف سے زائد خواتین نے مویشی بھی بیچ دیے جس سے ان کی آئندہ آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔
تحقیق کے نتائج ایس ڈی پی آئی کی لیڈ ریسرچر عائشہ نعیم نے پیش کئے جس میں ڈھانچہ جاتی اور پالیسی میں روایتی تفاوت کی نشاندہی کی گئی جسے فوری طورپر دور کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان کی 67فیصد ملازمت پیشہ خواتین زرعی شعبہ سے وابستہ ہیں اس کے باوجود صرف 1.5 فیصد زرعی گھرانوں کی سربراہی خواتین کے پاس ہے۔ زمینی ملکیت کا تناسب بھی اتنا ہی کم ہے ۔ 15سے 49سال عمر کی صرف 2فیصد شادی شدہ خواتین زمین کی اکیلی یا مشترکہ مالک ہیں ، 97.2فیصد خواتین کو وراثت میں زمین یا گھر نہیں ملا۔
سندھ میں99.1فیصد خواتین کے پاس اپنی یا مشترکہ زمین نہیں ہے۔ یہ مشکلات مالی اور ڈیجیٹل سہولیات تک خواتین کی کم رسائی کی وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہیں۔ 14فیصد خواتین کی نسبت 56فیصد مردوں کو مالیاتی سہولیات تک مکمل رسائی حاصل ہے جبکہ موبائل والٹ کی ملکیت میں مردوں کا تناسب 48فیصد جبکہ خواتین کا11فیصد ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر مسائل کے حل کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں 2022کے سیلاب میں 30بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا جبکہ بحالی و تعمیر کیلئے کم سے کم 16.3بلین ڈالر کا تخمینہ لگایا گیا۔
ایس ڈی پی آئی کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ساجد امین جاوید نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ چھوٹے درجے کے کسانوں کی سطح تک کلائمیٹ فنانس کا جائزہ لیتی ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس تحقیق میں صنفی پہلو کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے کیونکہ پاکستان کی تقریبا نصف آبادی کو اب بھی فعال کاشتکاروں کے طور پرتسلیم نہیں کیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ دیہی معیشت بالخصوص زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے کو مضبوط بنانا پاکستان کی مجموعی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موبی لنک بینک جیسے اداروں کے ساتھ شراکت داری اس شعبے میں تحقیق کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے ہیڈ آف انرجی یونٹ انجینئر عبید ضیا نے رپورٹ میں شامل چند تفاوتوں سے متعلق اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کاشتکاری کررہی ہیں، موسمیاتی اثرات سے متاثر ہورہی ہیں اور اپنی بقا کیلئے قرض لے رہی ہیں اس کے باوجود رسمی مالیاتی نظام ان کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا۔ ایک ایسے ملک میں جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، یہ کوئی ثانوی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے زرعی شعبہ کیلئے ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ موجودہ مالیاتی مصنوعات اس طرح بنائی گئی ہیں کہ ان کے لیے زمین کی ملکیت، اپنی مرضی سے نقل و حرکت اور ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی ضروری ہوتی ہے، جبکہ ایک خاتون کسان کے لیے یہ سہولیات اکثر دستیاب نہیں ہوتیں۔
.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں